بختاور (10) / توحید زیب
بختاور
سورج کی آنکھ میں تیشہ اُتار کے تُو نے کن جہانوں میں مجھ سے اعلانِ ترک تعلق کر لیا ہے
ایسے جہانوں ، ایسے زمانوں میں جہاں آئینے عکس سے خالی ہیں ،جہاں زندگیاں رقص خالی ہیں
ایسے زمانوں میں تُو نے میرے ہاتھ کاٹ کے میرے خون کا ایک ایک قطرہ اپنے حُسن کا پورٹریٹ بنوانے پہ لگا دیا
میں وہی لفظوں کا جادوگر ہوں جو چاک پر گھومتے ہوئے تیرے بے ترتیب بدن سے تھکن نکال لیتا تھا
اور تیری سلوٹ زدہ شام پر شفاف سکون درج کر دیتا تھا
آج تیری سفارشوں کی لمبی قطاریں دیکھ کر میں سوچتا ہوں حُسن کی بارگاہ میں قدرت ،
طاقت ، مذہب ، سیاست اور آدمیت کی کوئی وقعت نہیں تو پھر میں کس باغ کی مولی تھا
میں فرطِ محبت میں بھول گیا تھا تُو وہ شہکار ذہن ہے جو قبل از وقت ہر کھیل کی ترتیب بنائے رکھتی ہے
تاکہ بہ وقت ضرورت تجھے مشورے کرائے پر نہ لینے پڑیں
میرے اور تیرے تمام تر معاملات میں زیادہ قصور وار میری بے فیضگی ء طبیعت کی نمکینیاں تھیں
میں نے پہلی بارش اور پہلی بہار سے کبھی فائدہ نہیں اُٹھایا ، میں چاہتا تھا دیکھ بھال کے بعد
اجنبیت کے گلاس دیسی شراب سے خالی ہو جائیں اور پھر بدن کا لذیذ لقمہ چکھا جائے
مگر آج تُو اپنے تعلق کی درسال پر طنزیہ دستک دے کر خوش تو بہت ہے
لیکن تیرے مصنوعی خد و خال کے پیچھے تیرے ذہن کے سیلاب زدہ علاقے میں کہیں نہ کہیں
احساسِ رائیگانی کی لہر چلتی ہے
مجھے دیکھو ، میری آنکھوں میں ، میری باتوں میں ، میرے چہرے پر ، میرے ہاتھوں میں کوئی لرزش نہیں
میں ایک ترتیب سازِ زمان و مکاں ہوں
مجھ سے وحشت اور اداسی کا منجن سیل ہوتا نہیں
دیکھ بابو میں روتا نہیں




