کون / حسن اشفاق خاں

کون
اپنے اندر کہیں
ایک زنداں میں میں
کب سے ساکت پڑا
دیکھتا ہی رہا
کالی دیواریں ہیں اور سیاہ روشنی
خامشی
شور آلود سی خامشی مجھ کو ڈستی ہوئی
اور ساکت پڑا اس اندھیرے میں میں
ایک ہچکی کی آواز سے ڈر گیا
کتنے قیدی ہیں میرے سوا اس جگہ؟
اتنے عرصے میں میں نے یہ سوچا نہیں
کہ کوئی اور بھی اس گریزی کے زنداں میں موجود ہے
تو یہ آواز ہچکی کی کیا
اس کے اعصاب سے بھی چمٹ جائے گی
وہ جو موجود ہے
تو یہ مجھ پہ کھلا
کوئی موجود ہے اس جگہ
جو کہ آواز کی صوتی شکلیں بنانے پہ نازاں بھی ہے
اتنے سناٹے کے شور میں بھی
وہ ساکت نہیں
پر یہ ہچکی ہی کیوں؟
یعنی زنداں کی ان کالی دیواروں کے پار
بھی یاد کرتے ہوؤں کی نشانی پہنچ جاتی ہے؟
کیسا قیدی ہے جس کو گریزی کے زنداں میں بھی یاد رکھے ہوئے ہے کوئی
اور میں دل میں ہی پوچھتا ہی رہا
یا خدا
یہ ہے کیا ماجرہ
اور تب مجھ کو سننے کو پھر سے ملی ایک آواز ہچکی کی
تب یہ کھلا
کون ہو سکتا ہے اس جگہ
اک خدا
بس خدا




