انٹرویو

اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال ، ایک قابل ادیبہ بھی / انٹرویو: عطرت بتول

                                  تعارف

ڈاکٹر ثناور اقبال ایک متحرک اور باصلاحیت شخصیت ہیں جو ایک مصنفہ، ڈینٹسٹ، اور پاکستان کی سول سروس (اسسٹنٹ کمشنر) کے طور پر نمایاں ہیں۔ وہ ادب اور عوامی خدمت کو ایک ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر ثناور اقبال نے ڈینٹل سرجری میں  پیشہ ورانہ مہارت حاصل کی اور اس کے بعد سول سروس میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے عوامی فلاح و بہبود کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ شناخت میں "ڈینٹسٹ اسسٹنٹ کمشنر آئی آر” کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

ادبی شعبے میں بھی ان کا خاصا حصہ ہے۔ ان کی تحریر "21ویں صدی کی 21 کہانیاں”  سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ادبی دنیا کی سرگرم حصہ دار ہیں اور اپنی کہانیوں کے ذریعے قاری کے اندر تفکر اور تاثر بیدار کرتی ہیں۔

مختصراً، ڈاکٹر ثناور اقبال ایک مثال ہیں اُن خواتین کی جو معاشرتی خدمات، سرکاری ذمہ داریاں، اور ادبی اظہار کو اپنے کیریئر میں متوازن انداز میں یکجا کرتی ہیں۔

اسلام علیکم ، ثناور صاحبہ کیسی ہیں ؟
الحمدللہ ،اللہ کا کرم ہے

کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے ( بچپن ، والدین ، اسکول )
میرا تعلق لاہور سے ہے ۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے ہی حاصل کی ۔ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے بی ڈی ایس کیا۔ اس کے بعد ہیلتھ ایڈمنسٹریشن میں سپیشلائزیشن کی ڈگری انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز ، یونیورسٹی آف پنجاب سے حاصل کی ۔ 2020 میں مقابلہ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد میں نے اجوکا انسٹیٹیوٹ سے سکرپٹ رائٹنگ کا ڈپلومہ کیا ۔ علاوہ ازیں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے فکشن رائٹنگ کی تعلیم حاصل کی

عملی زندگی کی طرف کیسے آ ئیں ؟
بی ڈی ایس کرنے کے بعد میں نے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد سے ہاؤس جاب کی۔ کچھ عرصہ پرائیویٹ پریکٹس کی۔ پھر مقابلہ کا امتحان پاس کیا اور سول سروسز کو بطور پیشہ اختیار کیا ۔

کیا صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ؟
وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی بہت سی جگہوں پر صنفی مساوات کی ضرورت ہے

ادب کی کس صنف میں لکھنا پسند ہے ؟
میں بنیادی طور پر نثر نگار ہوں۔ بہت چھوٹی عمر سے بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا۔ بہت سے کہانی نویسی کے مقابلہ جات جیتے ۔

کیا ادب میں گروہ بندی ہونی چاہیے ؟
ادیب معاشرے کا راہنما ہوتا ہے لہٰذا ادب کو گروہ بندی سے پاک ہونا چاہیے

آپ نے کن مصنفین کو زیادہ پڑھا ؟
بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا تو تقریباً ہر ادیب کو ہی پڑھا۔ اردو ادب کے حوالے سے بانو قدسیہ ، اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، سعادت حسن منٹو ، ممتاز مفتی ، بشریٰ رحمٰن ، اور نسیم حجازی قابل ذکر ہیں ۔

نثر اور شاعری میں پسندیدہ شاعر و مصنف ؟
میرے پسندیدہ شاعر فیض احمد فیض ہیں۔ نثر میں نسیم حجازی میرے پسندیدہ مصنف ہیں۔

کیا سی ایس ایس یعنی مقابلے کا امتحان شفاف طریقے سے ہوتا ہے ؟ شاندار نتائج صرف قابلیت کی بنا پر حاصل ہوتے ہیں ؟
جی بالکل ۔ سی ایس ایس کا امتحان مکمل طور پر شفاف طریقے سے ہوتا ہے اور پاکستان کے ہر صوبہ کے نوجوانوں کو اس ملک کی تعمیر و ترقی میں انتظامی کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں

آ جکل آ پ کہاں تعینات ہیں اپنے کام کی نوعیت کے بارے میں بتائیے ؟
میں ایف بی آر میں بطور اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہوں۔ آج کل میری تعیناتی لاہور میں ہے۔

جاب کی مصروفیات میں تخلیقی سرگرمیاں تو متاثر نہیں ہوتیں ؟
تخلیقی سرگرمیاں اپنا وقت خود متعین کرتی ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کبھی کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی

آ پ کی تخلیقات کی تعداد اور ایوارڈ ؟
بچوں کے لیے سو سے زائد کہانیاں مختلف رسائل میں شائع ہو چکی ہیں ۔ سال 2023 میں بچوں کے لیے کہانیوں کی ایک کتاب "اکیسویں صدی کی اکیس کہانیاں” شائع ہوئی ۔ جو چلڈرن لٹریری ایوارڈ حاصل کر چکی ہے ۔ سال 2024 میں ایک ناول "پہچان” شائع ہوا جو سال 2018 میں”الف کتاب پبلیکیشن” کے تحریری مقابلہ "زمانے کے انداز بدلے گئے” کے لیے منتخب ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2023 میں گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب میں "ایمرجنگ فی میل آتھر 2023” کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہوں۔
ایک تھیٹر ڈرامہ "مائنڈ بلوئنگ ” الحمرا آرٹس کونسل لاہور ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر اور اجوکا نائٹس میں متعدد بار پرفارم ہو چکا ہے ۔ مذکورہ تھیٹر ڈرامہ چھبیسویں الحمرا تھیٹر فیسٹول میں بھی داد و تحسین سمیٹ چکا ہے ۔ 2024 میں پنجاب آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ پہلے پنجاب تھیٹر فیسٹیول میں بھی "مائنڈ بلوئنگ ” اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا ہے ۔
جنوری 2025 میں "پاکستان اکادمی ادبیات” کے زیر اہتمام ” نوجوان اہل قلم کے لیے پہلے "بین الصوبائی اقامتی منصوبہ” میں پنجاب کی نمائندگی کرنے والی واحد خاتون لکھاری ہونے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہے۔

ماشاءاللہ نوجوانی میں ہی آ پ اہم اور زمہ دار پوسٹ پر ہیں اس کا کریڈٹ کس کو دیں گی ؟ اپنی محنت ، والدین ، اساتذہ ؟
اللہ کا کرم ہے ۔ سب کامیابیوں کا دارومدار اللہ کی عطا پر ہے۔ اللہ کے فضل کے بعد میری تمام کامیابیاں میرے والد محترم محمد اقبال صاحب کی محنت اور اعتماد کا نتیجہ ہیں۔

موجود نظام تعلیم کے بارے میں کیا کہیں گی ؟
موجودہ نظام تعلیم بچوں کو آنے والے وقت کے لیے بہترین طریقے سے تیار کر رہا ہے ۔ سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں رواداری اور برداشت کا دور دورا ہو سکے

فیمنزم کی کس حد تک حامی ہیں ؟
اللہ نے خواتین کو بہت سے حقوق عطا کیے ہیں ۔انسانی رویوں کے معاملے میں اللہ کے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری کی جانی چاہیے

پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟
نہیں کوئی نہیں۔ ہم سب اس معاشرے کی اکائیاں ہیں
ہمیں اس معاشرے میں مثبت رجحانات کو فروغ دینا ہو گا

اردو ورثہ کے لیے کوئی پیغام ؟
محنت ، ہمت اور استقامت سے ہر مشکل کا مقابلہ کریں ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو بہت آسانیاں اور خوشیاں عطا فرمائے آمین

Author

Related Articles

Back to top button