منتخب کالم

   فیلڈ مارشل عاصم منیر مدبر سپہ سالار/ محمد علی یزدانی



 پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین اور پیشہ ور افواج میں ہوتا ہے۔ اس ادارے کی عظمت، وقار، اور بے مثال نظم و ضبط کو قائم رکھنے میں ان جرنیلوں کا نمایاں کردار رہا ہے جنہوں نے اپنی بصیرت، قائدانہ صلاحیتوں اور خلوص نیت سے ادارے کو مضبوط اور مؤثر بنایا۔ ان ہی نامور سپہ سالاروں میں ایک درخشاں نام موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، جنہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں جرأت و بہادری کی نئی داستانیں رقم کیں بلکہ قومی سلامتی کے ہر محاذ پر دانشمندی اور تدبر سے قیادت کی۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں بھارت کے خلاف فیصلہ کن اور شاندار کامیابی پر پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل کے طور پر سرفراز کیا۔ یہ اعزاز ان کی غیر معمولی قیادت اور عسکری حکمت عملی کا اعتراف ہے، جس کے باعث پاکستان کی مسلح افواج نے ایک ایسے دشمن کو شکست دی جو نہ صرف عددی لحاظ سے بڑا تھا بلکہ جدید ترین اسلحے سے لیس بھی تھا۔ ان کی قیادت میں پاک فوج نے بھارتی رافیل طیاروں کو زمین بوس کیا اور دشمن کو اپنی جارحیت کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیا۔ آج دنیا بھر میں عسکری ماہرین اور ادارے پاک فوج کی کارکردگی اور جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی کے معترف ہیں۔ جنرل عاصم منیر کا تعلق سپاہیوں کی اس نسل سے ہے جو دیانت، سچائی، اور اصول پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا فوجی سفر پاکستان آرمی کے وقار اور اعلیٰ پیشہ ورانہ اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول منگلا سے فوج میں شمولیت اختیار کی۔جنرل عاصم منیر ایک حافظِ قرآن بھی ہیں،جو ان کی روحانیت، استقامت، اور اخلاقی مضبوطی کی علامت ہے۔ یہ پہلو ان کی قیادت میں بھی جھلکتا ہے،جب انہوں نے حالیہ جنگ کے دوران نمازِ فجر کی امامت کی اور سنت ِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے دشمن پر جوابی کارروائی کی۔ ان کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اسلحے میں نہیں بلکہ ایمان، نیت اور قیادت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔سال 2014ء میں وہ فورس کمانڈ ناردرن ایریا کے سربراہ مقرر ہوئے،جہاں انہوں نے حساس سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنایا۔ 2017ء میں وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کے منصب پر فائز ہوئے، جہاں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف خفیہ محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اکتوبر 2018ء میں ڈی جی آئی ایس آئی بنائے گئے اور مختصر مدت میں اہم معلوماتی کامیابیاں حاصل کیں۔بعد ازاں، وہ گوجرانوالہ کے کور کمانڈر مقرر ہوئے، جہاں عسکری تربیت، آپریشنل تیاری، اور جدید حکمت عملیوں میں نمایاں بہتری لائی گئی۔ 2021ء میں جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر لاجسٹک اور وسائل کی منصوبہ بندی کی قیادت سنبھالی۔ 29 نومبر 2022ء کو انہیں 17واں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا اور یہ ایک ایسا فیصلہ جو نہایت دوراندیشی اور اعتماد  کا عکاس تھا۔

 جنرل عاصم منیر نے فوج کو آئینی دائرہ کار میں رکھنے، سیاسی معاملات سے اجتناب برتنے اور صرف قومی دفاع و سلامتی پر توجہ مرکوز رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ ان کے اس مؤقف نے نہ صرف فوج کو ایک پیشہ ور ادارہ بنایا بلکہ عوامی اعتماد بھی بحال کیا۔ انہوں نے عوام، ریاستی اداروں اور فوج کے درمیان ایک قابلِ قدر ہم آہنگی پیدا کی۔

بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے پاکستان آرمی کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صرف ایک جنرل نہیں بلکہ ایک مثالی سپاہی، مدبر رہنما، اور مخلص مصلح کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی جنگی حکمت عملی، بروقت فیصلے، دشمن کی چالوں کو بے نقاب کرنا، اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنا ہماری تاریخ کا درخشاں باب ہے۔ ان کا فیلڈ مارشل بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت محض عہدے سے نہیں بلکہ صلاحیت، نیت، اور خدمت کے جذبے سے حاصل کی جاتی ہے۔ان کے فوجی کارنامے آج دنیا کی وار اسٹڈیز میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی دشمن کے لیے ہمیشہ ایک معمہ بنی رہے گی۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوانا، اس کے غرور کو خاک میں ملانا، اور اس کے جدید اسلحے کو ناکام بنانا ایسی کامیابیاں ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان آرمی کے نظم و ضبط کو نئی سطح پر لے جانے کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی سلامتی کو نئی سمت عطا کی۔ وہ اس بات کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں کہ قیادت میں سادگی، اصول پسندی، اور دیانت ہی وہ عناصر ہیں جو ادارے اور قوم کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

تاریخ انہیں ایک غیر معمولی، مدبر اور باوقار سپہ سالار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی، ایک ایسا نام جو قوم کے دلوں میں نقش ہو چکا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button