ناصر عباس نیّر بنامِ شاہد ماکلی

ناصر عباس نیّر بنامِ شاہد ماکلی
برادرم شاہد ماکلی صاحب!
آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے اپنے تازہ شعری مجموعے "تجاذُب” سے نوازا۔ مختلف وقتوں میں اس کی غزلیں پڑھی ہیں۔ کم وبیش ہر غزل کے اکثر اشعار نے حیرت اور مسرّت سے ہم کنار کیا۔ معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے دو ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں، جو کلیشے کا درجہ اختیار کر گئے ہیں: حیرت اور مسرت۔ ہر دوسرا شخص ، ہر سطح کے شعر و افسانہ کے لیے یہی دو لفظ استعمال کرتا ہے،اور سچ یہ ہے کہ انھیں بے توقیر کرتا ہے۔ کوئی لفظ، اپنے مقام پر ، بروقت استعمال نہ ہو تو یہ صاحبِ کلام کا عجز ہے، لیکن کوئی لفظ غلط مقام پر ارادتاً استعمال کیا جائے تو یہ ستم بھی ہے اور لفظ کی بے توقیری بھی۔
فن کے پاس آدمی کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ ان میں حیرت اور مسرّت ، سب سے اہم ہیں۔ لیکن ہر فن پارے کی مسرّت اور حیرت جدا ہوتی ہے۔ کتنی جدا ہوتی ہے، اس کا انحصار فن کار ، فن پارے اور قاری تینوں پر ہوا کرتا ہے۔ آپ کی غزلوں میں حیرت کا ماخذ، کائنات سے متعلق شعور ہے ،جو ظاہر ہے ، سائنسی ہے، مگر اسے اس طور پیش کیا گیا ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ محض مشکل موضوع کو آسانی سے پیش کرنے کا عمل نہیں ، بلکہ اپنے احساس کو اس سطح پر لانے کا عمل ہے کہ آدمی خود کو محض زمین کا نہیں، اس لامحدود کائنات کا شہری محسوس کرے۔ کچھ لوگوں کے یہاں کائنات اپنی بے کناریت کے سبب خوف پیدا کرتی ہے، علامہ اقبال کے یہاں ہیبت طاری کرتی ہے (یہ گنبدِ مینائی ،یہ عالمِ تنہائی / مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی) اور یہ ہیبت، خوف سے یکسر جدا قسم کا احساس ہے؛ کچھ کے یہاں کائنات، انسانی وجود سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے، اور انھیں لغویت سے ہم کنار کرتی ہے، مگر آپ کے یہاں، یہ احساس شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے خون اور ہڈیوں میں واقعی ستاروں کی راکھ شامل ہے، اور اس کائنات کے مظاہر و عناصر ہمارے قریبی عزیز ہیں، اور ہم ان کے لیے والہانہ جذبات رکھتے ہیں۔
ایک اور چیز جو آپ کی غزلوں میں خاصی نمایاں ہے، وہ "نہیں” اور "عدم” کے سلسلے میں بے خوفی ہے۔ عدم کو معدومیت کا دوسرا نام دینے کے بجائے، اسے وجود اور تخلیق کا منبع بنانے کا عمل ہے۔ یہ بلاشبہ ایک طرف تخیل کو کائنات کی مانند مسلسل پھیلانے، اور نظر سے اوجھل دنیاؤں کو تخیل کے زیرِ کمند لانے کا اقدام ہے، بلکہ خالی پن اور عدم سے ،فن کی تخلیق کی جرأت کا فعل بھی ہے۔ پھر سب سے اہم بات ، اس سب کو انسانی دل کی دنیا میں لانے ،اور اس دل کی زبان میں پیش کرنے کا عمل ہے۔ گویا بعید و معدوم دنیاؤں کے اسفار کا سفرنامہ، دل کی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ دل کی زبان سے زیادہ خلّاقانہ زبان کیا ہوسکتی ہے ! اسی سے وہ گہری اور تہ دار مسرت ملتی ہے،جس کا میں نے آغاز میں ذکر کیا ہے۔ آپ کی غزلوں میں حیرت اور مسرت ،دونوں کے عالم جدا ہیں۔
کچھ اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا:
تری تلاش میں ایسا بھی ایک پل آیا
میں کائنات سے باہر کہیں نکل آیا
جو بیکرانی سی پھیلی ہوئی ہے عالم میں
اسے ہمارے ہی دل کا خلا سمجھ لیجے
کئی پیکر بنیں گے کائناتی دُھول کا حصہ
کئی ذرّات ہم تک گردِ لاحاصل سے پہنچیں گے
خود کو دُہراتے رہے مجھ میں عدم، وقت، وجود
منعکس مجھ میں رہے آئنہ خانے تینوں
کوئی بہت بڑا اک بُلبلہ ہے یہ عالم
جو پھیلتے ہوئے پھٹ سکتا ہے کسی بھی وقت
گزر ہے روزنِ تاریک کے دہانے سے
کرن کا کام نمٹ سکتا ہے کسی بھی وقت
رنج رکھتے ہیں تیرے خانہ بدوش
بے گھری کا، نہ لامکانی کا
نہیں معلوم کب سے غائب ہے
ایک پل، روز و شب سے غائب ہے
کم ہے اک ذرّہ ، گردِ عالم سے
ایک فرد، آٹھ ارب سے غائب ہے
تو جسے وہم کہہ رہا ہے مرا
روزمرّہ کا تجربہ ہے مرا
خود کوخالی کروں کہاں شاہد
دل دوعالم سے بھر گیا ہے مرا
ناصر عباس نیّر
۹ نومبر ۲۰۲۵ء




