خود انحصاری اور خود مختاری/ خواجہ اقبال

دنیا بھر میں جغرافیائی، سیاسی، اور اقتصادی حالات ہمیشہ ملکوں کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ یوکرین نے ایک ایسا سبق سیکھا ہے جو نہ صرف اْس کے لیے بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک وارننگ ہے۔ یوکرین کی موجودہ صورت حال ایک تلخ حقیقت ہے، اور اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی سیاست اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے سب سے اہم چیز خودانحصاری ہے۔
پاکستان نے بھی اس سبق کو ماضی میں سیکھا ہے، مگر بدقسمتی سے وہ اسے گہرائی سے نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی اسے اپنی پالیسیوں میں ترجیح دی۔ اسی طرح پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ اس بات کے واضح غماز ہیں کہ اگر پاکستان نے خودانحصاری کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کیا، تو وہ بھی کسی سنگین حالات کا شکار ہو سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آپ عالمی طاقتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں تو آپ اپنی خودمختاری اور فیصلے کی آزادی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کسی ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اقتصادی اور دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرے، تاکہ کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت کا شکار نہ ہو۔ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے تو آپ کی حیثیت ایک کمزور ملک کی سی ہو جاتی ہے جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان نے بھی ماضی میں کئی بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی سیاسی اور اقتصادی امداد پر انحصار کرتے ہوئے پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری میں کمی کی بلکہ اپنے داخلی مسائل کو بھی نظر انداز کیا۔ سرد جنگ کے دوران پاکستان نے امریکی حمایت کی، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کی معیشت کمزور ہوئی بلکہ اس کی سیاسی پوزیشن بھی کمزور پڑ گئی۔ افغان جنگ، دہشت گردی کا مسئلہ، اور عالمی طاقتوں کے دباؤ نے پاکستان کو کئی مرتبہ عالمی سطح پر غیر محفوظ کر دیا۔
پاکستان نے ہمیشہ عالمی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے داخلی خودمختاری، سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت کو کم سمجھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں سیاسی بے یقینی، معاشی بحران اور کمزور حکومتیں دیکھنے کو ملیں، جنہوں نے ملک کو خودانحصاری کی بجائے عالمی امداد کے سہارے کی عادت ڈال دی۔
پاکستان کے لیے اب وقت آ چکا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات میں خودانحصاری، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو سب سے اہم بنائے۔ یہ عمل اس وقت بہت ضروری ہے جب پاکستان معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔
پاکستان کو عالمی امداد اور قرضوں کی بجائے اپنے وسائل سے اقتصادی خودانحصاری حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ توانائی کے شعبے میں خودکفالت، زراعت کی ترقی اور صنعتی شعبے کی مضبوطی سے پاکستان اپنے معاشی بحران کو کم کر سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کو فروغ دینا بہت ضروری ہے تاکہ ملک کی داخلی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد، قانون کی بالادستی اور جمہوری نظام کی پختگی اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط اور خودمختار ملک کے طور پر ابھر سکے۔
پاکستان کو اپنے ٹیکس کے نظام، کرپشن کی روک تھام اور ملکی اداروں کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ اصلاحات نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں گی بلکہ ملک کے اندرونی سیاسی استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اگر کسی ملک نے اپنی خودمختاری اور خودانحصاری کو نظرانداز کیا تو وہ عالمی سیاست میں ایک کمزور کھلاڑی بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اب یہ وقت ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرے، اور سیاسی و اقتصادی استحکام کو اپنی پالیسیوں کا بنیادی نکتہ بنائے۔ اگر پاکستان نے یہ قدم اٹھایا تو وہ نہ صرف داخلی بحرانوں سے نکل سکے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکے گا۔




