غزل

اسد رحمان کی غزلیات

اسد رحمان کی غزلیات

 

بارِ دگر جو دی ہے صدا اور زور سے 

شاید سُنا نہ ہو تو کہا اور زور سے 

 

جب گھیرنے لگے کسی کمزور پَل میں غم 

مَیں سر جھٹک کے ہنسنے لگا اور زور سے 

 

عفریتِ غم کے ڈر سے جو سمٹا ذرا سا مَیں 

چنگھاڑنے لگی تھی بَلا اور زور سے 

 

باہر سے جھانک کر ابھی آیا ہوں مَیں کہ پھر 

در کھٹکھٹا رہی ہے ہوا اور زور سے 

 

وہ ڈھا رہے ہیں خلقِ خدا پر غضب مزید 

ہم جَپ رہے ہیں نامِ خدا اور زور سے 

 

دادِ ہنر ہے مطمعِ شعر و سخن تو پھر 

بہروں کے شہر میں ہے چِلا اور زور سے 

 

دنیا سے جب کہوں مَیں ترے کام کا نہیں 

دامن کو کھینچتی ہے ذرا اور زور سے

 

٭٭٭

 

جب کبھی مَیں نے ساحل پہ جا بیٹھنا

ریت کے گھر بنا کر بہا بیٹھنا

 

یہ بھی مظہر ہے قدرت کے انصاف کا

بے سَروں کے سَر وں پر ہُما بیٹھنا

 

کارِ دربار سے جب فراغت ملے

ہم فقیروں کی محفل میں آ بیٹھنا

 

مسندِ حُسن پر کوئی جھگڑا نہیں

تیرے ہوتے ہوئے کس نے کیا بیٹھنا

 

ہائے سادہ دلی تجھ سے کیا اب کہیں

اک چُھپاتے ہوئے دو بتا بیٹھنا

 

شہرِ کم گوش میں ایک معمول ہے

چیختے چیختے یوں گَلا بیٹھنا

 

منتشر ہوکے آساں ہدف مت بنو

حالتِ خوف میں اک جگہ بیٹھنا

 

٭٭٭

اِتنا اُکتا گیا شکار سے مَیں

اب نکلتا نہیں کَچھار سے مَیں

 

جب سُنی شرط باریابی کی 

آ گیا اُٹھ کے اُس قطار سے مَیں

 

ایسے جھاڑی ہے پہلی گَرد کہ پھر

اَٹ گیا ہوں نئے غُبار سے مَیں

 

کتنا تنہا تھا ذات میں اپنی

کیسے باہر ہؤا شمار سے مَیں 

 

ہر طرف رنگ و بُو کا پہرہ تھا

کیا نکلتا ترے حصار سے مَیں

 

کون سمجھائے پیار سے مجھ کو

کب سمجھتا ہوں ایک بار سے مَیں

 

تبصرہ اک ولی کے شہر پہ تھا 

ڈر گیا صاحبِ مزار سے مَیں

 

٭٭٭

اوج پر آئے ہوئے چاند کی اس رات کا رنگ 

 شہرِ انکار پہ چھاتا ہوا اثبات کا رنگ 

 

میں تو خوشبو کی زباں ایسے سمجھ لیتا ہوں 

جیسے پھولوں نے چُرایا ہو تری بات کا رنگ 

 

یہ فقط تیرے بدلنے سے کُھلا ہے مجھ پر 

کیسے پل بھر میں بدلتا ہے سماوات کا رنگ 

 

تیری باتوں کی حلاوت سے نشہ بڑھتا ہے 

تُرش لہجے سے ہی اترے گا خرابات کا رنگ 

 

 کیسے آئینے میں دیکھوں گا مَیں صورت اپنی 

جب مری ذات سے اترے گا تری ذات کا رنگ 

 

ایسے اشکوں کی روانی سے دھلے خال و خد

جیسے برسات میں نکھرا ہو نباتات کا رنگ 

 

تُو نے جانی ہی نہیں طرزِ پزیرائی مری

تُو نے دیکھا ہی نہیں میری مدارات کا رنگ

 

ایسے چھینا ہے ترے ھجر نے سب میرا جمال 

جیسے کھا جائیں مہ و سال عمارات کا رنگ 

 

میرے ماتھے سے رواں سیلِ ندامت نے اسد 

کہیں چھوڑا ہی نہیں کوئی عبادات کا رنگ

 

٭٭٭

یہ جو ورَق پھٹا ہے مجلد کتاب کا

شاید اسی پہ درج ہو شجرہ جناب کا

 

ٹھپ ہو چکا ہے جنسِ محبت کا کاروبار

بس دھندہ چل رہا ہے گناہ و ثواب کا

 

بین السطور لکھا ہے قاصد کو مار دوں

 وہ منتظر کھڑا ہے ابھی تک جواب کا

 

زندہ ہوں اس لیے کہ اذیت پسند ہوں

مَیں لُطف لے رہا ہوں مسلسل عذاب کا

 

اک ایک کر کے سارے فرشتے اُلٹ گئے

یہ دور آخری تھا مقدس شراب کا

 

بیٹھے ہوئے ہیں دشت میں پاؤں پسار کر 

اک ٹکڑا آ گیا ہے کہیں سے سحاب کا

 

وہ حُسن ہے کہ آنکھ ٹھہرتی نہیں اسد

جلوہ بھی کام کرتا ہے اُس پر نقاب کا

 

٭٭٭

جب شہرِ کم رُخاں نے بنائے تھے آئینے 

کس کس جتن سے ہم نے بچائے تھے آئینے 

 

ذرات کے ضمیر میں سوئی ہے جو انا 

اس نے تو سورجوں کو دکھائے تھے آئینے 

 

اُس حسنِ بے مثال نے مانگی تھی جب مثال 

جن کو ذرا سا ہوش تھا لائے تھے آئینے 

 

پتھرا چُکے تھے عکس مگر خوش گُمان لوگ 

حیرت کی زد پہ چھوڑ کے آئے تھے آئینے 

 

تنہائیوں کا خوف بھی کتنا شدید تھا 

مَیں نے تمام گھر میں لگائے تھے آئینے 

 

اُس کو تھا کاتبین کا لکھا سند، سو ہم 

یوں کم نُما ہوئے کہ پرائے تھے آئینے 

 

پتھر کے دام کس لیے بڑھنے لگے اسد  

ہم لوگ تو خریدنے آئے تھے آئینے 

 

٭٭٭

ایسے نہ سرِ خاک فلک رول کے دیکھے

ہم لعل و جواہر ہیں ہمیں تول کے دیکھے

 

حالات کی مُٹھی میں زمانوں سے پڑا ہؤں

اب وقت سے کہہ دو کہ مجھے کھول کے دیکھے

 

جنگل میں شکاری کا نشاں ڈھونڈ رہے ہیں

ہم ایسے پرندے بھی کسی غول کے دیکھے

 

مَیں ایک ا سی کُن کا سزاوار نہیں تھا

وہ لفظ بھی کہہ دے جو نہیں بول کے دیکھے

 

پہلے جو دیا مجھ کو وہ مہلک ہی نہیں تھا

اب اُس سے کہو زہر میں غم گھول کے دیکھے

 

خاموش سے لہجے میں سخن ساز تھی فطرت

ہم نے یہ کرشمے ترے ماحول کے دیکھے

 

کیا دستِ عطا ہے کہ طلب گار ہے میرا

اب کوئی مقدر مرے کشکول کے دیکھے

 

٭٭٭

گرچہ سبھی فِدا ترے حُسنِ بیاں پہ ہیں

لیکن کئی سوال تری داستاں پہ ہیں

 

پائی نہیں ہے آج تلک ایک بھی مراد

ہم وضع دار پھر بھی ترے آستاں پہ ہیں

 

ان کے ثبات سے ہے تغیر کو مسئلہ 

کچھ لوگ جس جگہ تھے ابھی تک وہاں پہ ہیں

 

کب موجِ سیلِ وقت بھی سب کو مِٹا سکی

قدموں کے کچھ نشان زمان و مکاں پہ ہیں

 

ایسا نہ ہو کہ بیچ کے پچھتانے لگ پڑو

ہم جیسے کتنے اور تمہاری دکاں پہ ہیں؟

 

کھینچا نہیں گیا ہوں فقط مَیں ہی دار پر

جو بھی کشیدہ سر تھے وہ نوکِ سِناں پہ ہیں

 

جب شاعری کا لُطف اُٹھا لیجئے تو پھر

وہ زخم دیکھئے گا جو میری زباں پہ ہیں

 

٭٭٭

ایک تُونے نہیں گنوایا مجھے

کون اب تک سنبھال پایا مجھے

 

یہ وہ جنت تھی جو دِکھانے کو؟

یار کی بزم سے اُٹھایا مجھے

 

اُس کو اک آئینے کی خواہش تھی

اُس نے پھر سوچ کر بنایا مجھے

 

مجھ سے پہلے تھااُس کے قدموں میں

دے گیا مات میرا سایا مجھے

 

شکوہ بنتا نہیں خدا سے اگر

کس کے بندوں نے پھر ستایا مجھے

 

وجد میں کائنات آگئی تھی

وقت نے تھوڑی دیر گایا مجھے

 

میرے پیچھے بھی مَیں کھڑاہؤا تھا

اُس نے آگے سے جب ہٹایا مجھے

 

٭٭٭

کسی کے حکم سے انکار پر لکھا ہؤا تھا 

مرے خلاف جو دیوار پر لکھا ہؤا تھا 

 

"یہاں پہ آنے کا رستہ ہے واپسی کا نہیں” 

یہ ایک جملہ درِ یار پر لکھا ہؤا تھا 

 

مَیں اُس کی ساری سوانح کو سچ سمجھ لیتا

مگر وہ باب جو کردار پر لکھا ہؤا تھا

 

مبارزت کے لیے کون سامنے آتا

مرا نَسَب مری تلوار پر لکھا ہؤا تھا 

 

اُسے ملال سے احبا

ب نے کیا تعبیر 

وہ ایک نوحہ جو رخسار پر لکھا ہؤا تھا 

 

ہر ایک دور کا انسان تھا خسارے میں 

ہر ایک دور کے آثار پر لکھا ہؤا تھا  

 

بس ایک پیڑ پہ لکھا تھا مَیں نے پچھلے برس 

اور اب وہ نام سب اشجار پر لکھا ہوا تھا

 

٭٭٭

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x