مُجھے صرف گولی سے مارنا / نصیر احمد ناصر

مجھے صرف گولی سے مارنا
نصیر احمد ناصر
مجھے صرف گولی سے مارنا
نہ کلہاڑی، نہ خنجر کے وار کرنا
نہ جلانا، نہ گھسیٹنا،
نہ کردار کی لاش پر
اپنی خود ساختہ شریعت کے پتھر رکھنا
نہ میری خاموش چیخوں کو کوئی نام دینا
میں صرف محبت کرنا چاہتی تھی
مگر تم کیا جانو
پربتوں پر کھلے پھول کی مہک
صحرا کی رات میں چاندنی کا سوناتا
اور بارش میں بھیگا ہوا
کوئی سچّا انتظار
تم تو
دھڑکنوں اور خوابوں کو
اور بے خطا، معصوم محبت کو بھی
لبادہ پوش غیرت کی میزان پہ تولتے ہو
مجھے صرف گولی سے مارنا
کیونکہ میں نے باپ، بھائی،
اور جرگہ کے بوسیدہ نظام سے
اپنی مرضی کا راستہ چنا
میں نے تمھاری اونچی دیواروں پر
اپنا نام لکھا
اور تم نے اسے
ناموس کا دھبہ سمجھ کر
خون سے مٹا دینا چاہا
مگر کیا میں
واقعی تمہاری گولی سے مر جاوں گی؟
تم میرا جسم دفنا سکتے ہو
لیکن میری روح، میری خاموشی
اور میرے خوابوں کو نہیں مار سکتے
وہ تمھاری بندوق کی حد سے باہر ہیں
ایک دن،
کسی اور لڑکی کی آنکھوں میں
میری آنکھیں ہوں گی
اور وہ بھی کہے گی:
"مجھے صرف گولی سے مارنا”
تب تم کیا کرو گے؟
تم محبت سے ڈرتے ہو
اور ہم
ہمیشہ محبت کرتی رہیں گی
یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے
تم کس کس کو مارو گے؟




