نظم
-
زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری
زلیخا : میں یوسف ! ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک…
Read More » -
بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی
بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک…
Read More » -
ہنرِ وفا | زمان معظّم
ہنرِ وفا میں نے اُس کی بے سمتی کو سمتِ تعیّن دی اُس کے پژمردہ وجود میں رمقِ اشتیاق کی…
Read More » -
قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی
قدیم رسم رات جس ملال کا تذکرہ کرتی آئی ہے وہ جسموں کی پاکی نجانے کس غسل سے ہو ممکن …
Read More » -
اندیشہ | اعجازالحق
اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں! کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو،…
Read More » -
کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی
کس جہت میں یہ بیاباں ہے اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے …
Read More » -
گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی
گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور…
Read More » -
ایتھینا | باسط پتافی
ایتھینا کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی…
Read More » -
سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق
سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے…
Read More » -
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے…
Read More »