نگران وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں میں کمی کا ’ٹھوس‘ پلان مانگ لیا

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے زائد بلوں سے متعلق اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے زائد بلوں میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات مرتب کرکے پیش کریں۔
وزیر اعظم ہاؤس نے اجلاس ختم ہونے کے بعد ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ آج اجلاس کا پہلا دور ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو جولائی کے بجلی کے بلوں میں اضافے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.
پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے مفت بجلی حاصل کرنے والے افسران اور اداروں کی مکمل تفصیل فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایسا ممکن نہیں کہ عام آدمی مشکل میں ہو اور افسر شاہی اور وزیرِ اعظم ان کے ٹیکس پر مفت بجلی استعمال کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عام آدمی کی نمائندگی کرتے ہیں اور وزیرِ اعظم ہاؤس اور سیکریٹریٹ میں بجلی کا خرچہ کم سے کم کیا جائے۔
پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ جلد بازی میں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے البتہ ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے ملکی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ہو اور صارفین کو سہولت ملے۔
آج منعقدہ اجلاس میں پاور ڈویژن نے بریفنگ دی، مخلتف وفاقی وزراءسمیت سیکٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لئے وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کو مل کر لائحہ عمل بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ مختلف سرکاری ملازمین کو مفت یونٹس کے معاملہ پر بھی تفصیلی…
— Anwaar ul Haq Kakar (@anwaar_kakar) August 27, 2023
انہوں نے ہدایت کی کہ تقسیم کار کمپنیاں بجلی چوری کی روک تھام کا روڈ میپ پیش کریں جبکہ بجلی کے شعبے کی اصلاحات اور قلیل، وسط اور طویل مدتی پلان جلد از جلد پیش کیا جائے۔
پریس ریلیز کے مطابق کے مطابق اس معاملے پر کل صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے علاوہ ٹھوس اقدامات اور پلان پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
اجلاس میں عبوری کابینہ کے وفاقی وزرا شمشاد اختر، گوہر اعجاز، مرتضی سولنگی، مشیر وزیرِ اعظم ڈاکٹر وقار مسعود، سیکرٹری پاور، چئیرمین واپڈا، چیئرمین نیپرا اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
تاجروں کا ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال
آل پاکستان تنظیم تاجران نے بجلی کے بھاری بلوں اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔
تنظیم کے صدر محمد کاشف چوہدری نے اتوار کو اسلام آباد پریس کلب میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ 29 اگست کو بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج ہو گا جبکہ دو ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ’بجلی کی بنیادی قیمت میں ظالمانہ اضافے اور کئی ٹیکسز نے بجلی کے بل کو عوام کے لیے بم بنا دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کی مارکیٹس میں سیاہ پرچم لگا کر احتجاجی تحریک کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
’پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی کا طوفان ناقابل برداشت ہو گا، حکومت فی الفور بجلی و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا ظالمانہ اضافہ واپس لے۔‘
انہوں نے کہا کہ سالانہ 32 کروڑ بجلی کے مفت یونٹس، لائن لاسز ، آئی پی پیز کے کک بیکس کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے قوم تھک چکی ہے۔’
تاجر تنظیموں کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی دو ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ سراج الحق نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا
بجلی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ کے خلاف دو ستمبر کو ملک بھر میں ہڑتال کریں گے کراچی سے چترال تک ظالمانہ فیصلے کے خلاف عوام سڑکوں پر نکلیں گے
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) August 27, 2023
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بات چیت کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:
بجلی کا بحران۔۔
ریلیف کی حد 200یو نٹ سے بڑھا کر 300یونٹ کر نی چاھئیے۔ اسکے لیئے IMF کو اپروچ کرنا چاھئیے
اسوقت یہ رعایت اگر سال میں کسی ایک ماہ میں 200تجاوز کر جاۓ تو سارے سال کی رعایت ختم ھو جاتی ھے-اس رعایت کو ماہانہ بنیادوں پہ مہیا ھونا چاہئیےآزاد کشمیر فاٹا بلوچستان سے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 27, 2023
پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد احتجاج جاری ہے۔
میڈیا رپوٹس کے مطابق کراچی میں کے الیکٹرک کے عملے پر تشدد کے علاوہ مختلف شہروں میں بجلی کے دفاتر کے باہر احتجاج ہوا ہے۔
پنجاب کے شہر راولپنڈی اور ملتان میں بھی بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے احتجاج اور غصے کے باعث آئیسکو راولپنڈی کو اپنے دفاتر کے تحفظ کے لیے پولیس تعینات کروانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔
جمعے کو سپرنٹنڈنگ انجینیئر کی جانب سے راولپنڈی پولیس کو لکھے گئے خط میں متعلقہ عمارتوں میں پولیس اہلکار تعینات کرنے کی درخواست کی گئی۔
ہفتے کو اسلام آباد میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی اور سیکرٹری پاور ڈویژن نے ایک پریس بریفنگ میں بجلی کمپنی کے افسران کو مفت یونٹس کی فراہم ختم کرنے کا اعلان کیا۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ واپڈا کے پرانے ملازمین کے علاوہ کسی محکمے میں بجلی کے بلوں میں رعایت نہیں دی جا رہی اور یہ کہ اس وقت یہ رعایت بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو مل رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کہ تمام بوجھ بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر ڈالا جا رہا ہے۔




