خبریں

بٹگرام چیئرلفٹ میں پھنسے طلبہ اور اساتذہ کو بچانے کی تدبیروں پر غور


صوبہ خیبرپختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا ضلع الائی میں پاشتو کے مقام پر چئیر لفٹ کی ایک تار ٹوٹنے سے چھ بچوں سمیت آٹھ افراد پھنسے ہوئے ہیں جنہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ بٹگرام چئیر لفٹ ریسکیو آپریشن میں ایس ایس جی کی ٹیم حصہ لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان آرمی کے سپیشل سروسز گروپ (SSG) کی سلنگ آپریشن میں ماہر ٹیم بھی بٹگرام روانہ کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج ریسکیو آپریشن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پاک آرمی کا ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر بٹگرام میں  پہنچ کر علاقے کی ریکی  کر رہا ہے۔ ریکی کرنے کے بعد بڑے محتاط انداز میں ایک منظم طریقے سے ریسکیو آپریشن کیا جائے گا۔

ضلع بٹگرام کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریلیف) سید حماد اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچوں کے ریسکیو کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیلی کاپٹرز کو ابھی گراؤنڈ کر دیا گیا ہے کیونکہ ہیلی کی پریشر سے ڈولی ہلنے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کو کھانا اور پانی فراہم کیا ہے اور ان کی طبیعت اب بہترہے لیکن گرمی کی شدت سے وہ پریشان ضرور ہیں۔ 

سید حماد اکبر نے بتایا، ’ہم ریسکیو کے دیگر اپشبز پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ایسی حالت میں تھوڑا بھی رسک نہیں لیا جا سکتا ہے۔ہیلی کے ذریعے ریسکیو کرنے میں ریسک موجود ہے۔‘

حماد اکبر کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جارہاہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو باحفاظت ریسکیو کیا جا سکے۔

فوجی بیان کے مطابق یہ ایک انتہائی رسکی آپریشن ہے کیونکہ لفٹ تھوڑا سے غیر متوازن ہونے سے اور ہیلی کاپٹر  کے ہوائی پریشر سے لفٹ ٹوٹ سکتی ہے۔ اسی لیے انتہائی احتیاط سے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بٹگرام میں ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجنیئیر شارق ریاض کے مطابق اطلاع موصول ہونے پر ڈیزاسٹر ٹیم موقعے کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً چھ گھنٹے گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ 

ریسکیو1122 خیبر پختونخواکے ترجمان بلال احمد فیضی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہیلی کے ذریعے بھی ریسکیو کرنے میں وقت لگے گا کیونکہ ریسکیو اپریشن کو نہایت احتیاط سے کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ چیئر لفٹ دو گاؤں کو ملانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کوئی سیاحتی مقام پر لگی چیئر لفٹ نہیں ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان تیمور خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پھنسے ہوئے اساتذہ اور بچے گورنمنٹ ہائی سکول باٹنگی کے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس چیئر لفٹ کی لمبائی تقریبا 200 میٹر ہے۔

ایک مقامی اخبار نے الائی کے چیئرمین مفتی غلام اللہ کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ صبح آٹھ بجے اس وقت پیش آیا جب بچے سکول جا رہے تھے۔

سرکاری حکام کے مطابق چیئر لفٹ تقریبا دو ہزار فٹ کی بلندی پر جنگری خوڑ نامی ندی پر پھنسی ہوئی ہے۔

ٹیم صبح وقوعے کی جانب روانہ کی گئی تاہم متاثرہ مقام کم وبیش پانچ گھنٹوں سے زائد کی دوری پر ہے۔ حکام کے مطابق ریسکیو1122 کی ٹیم موقعے پر پہنچتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دے گی۔

ادھر ڈپٹی کمشنر بٹگرام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے فوجی حکام سے ہیلی کاپٹر / ایئر لفٹ کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے چیئر لفٹ میں پھنسے آٹھ افراد کے فوری ریسکیو کی ہدایت کر دی ہے۔ ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کی NDMA، PDMA، اور تمام متعلقہ ریسکیو اداروں کو تمام تر وسائل بروئے کار لا کر طالب علموں اور اساتذہ کو ریسکیو کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے پہاڑی علاقوں میں موجود ایسی تمام چیئر لفٹس پر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے خستہ حال اور حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والی چیئرلفٹس کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرلفٹ پر پھنسے ہوئے نور الہادی نے بتایا کہ دو طلبہ بےہوش ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے بچوں اور اساتذہ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل برائے کار لائے جائیں۔

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے بھی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور کمشنر ہزارہ ڈویژن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور چئیر لفٹ میں پھنسے طلبہ کو ریسکیو کرنے کے لیے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

پشاور میں جاری ایک بیان کے مطابق گورنر نے چئیر لفٹ میں پھنسے طلبہ کی خیریت بھی دریافت کی۔

پی ڈی ایم اے نھ بھی ایک پوسٹ میں امدادی کارروائیوں کا اطلاع دی ہے۔

حاجی غلام علی کے بیان کے مطابق تمام متعلقہ ادارے و ضلعی انتظامی مشترکہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی بٹگرام روانہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے مقامی لوگوں کو تسلی دی کہ انشاءاللہ چئیر لفٹ میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے علاقے میں تمام چیئر لفٹس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، عبوری وزیر اعلیٰ کے پی محمد اعظم خان اور وزیر اطلاعات فیروز جمال سے فوری ایکشن لینے کی درخواست کرتے ہوئے مدد مانگی ہے۔

پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ڈولی کہلوانے والی سواری چیئر لفٹ میں دریا عبور کرتے ہیں۔ لیکن حفاظتی انتظامات کے فقدان کی وجہ سے حادثات اکثر ہوچتے رہتے ہیں۔

اسی سال 25 جون کو سوات کی تحصیل بحرین کے علاقے مانکیال میں ڈولی گرنے سے ماں اور بیٹا ڈوب گئے تھے۔ اس ڈولی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سوارتھے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button