خبریں

’نوکری کا جھانسہ‘: مارگلہ پہاڑیوں پر لڑکی کے ساتھ مبینہ ریپ کا مقدمہ درج


اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں پر واقع ٹریل تھری پرایک لڑکی کے مبینہ ریپ کے واقعے کی ایف آئی آر پولیس نے درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ضلع شیخوپورہ کے شہر مریدکے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کافی عرصے سے نوکری کی تلاش میں تھیں اور ملزم نے انہیں نوکری کے بہانے سے ریپ کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کو تقریبا دو ماہ قبل ملزم کی جانب سے پیغام واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوا۔

ملزم نے لڑکی کو بتایا کہ وہ محکمہ تعلیم میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتے ہیں اور ان کے پاس کچھ آسامیاں خالی ہیں جس پر وہ انہیں نوکری دلوا سکتے ہیں۔

نوکری دلوانے کے عوض انہوں نے لڑکی سے 50 ہزار روپے دینے کا مطالبہ کیا اور رواں ماہ 12 جولائی کو بلانے پر راولپنڈی پہنچیں۔

درخواست کے مطابق لڑکی نے کہا کہ شہر میں جہاں وہ اپنی عزیزہ کے گھر رکی ہوئی تھیں ملزم نے وہاں پہنچ کر سی وی اور 30 ہزار روپے ایڈوانس کے طور پر وصول کیے۔ جب کہ بقایا 20 ہزار روپے ملازمت کا تحریری آرڈر موصول ہونے پر لڑکی نے ادا کرنے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے لڑکی کو بتایا کہ وہ انہیں ایک سینیئر افسر سے ملوائیں گے جو امیدواران کے انٹرویو لیں گے۔ ’ایسے ان کی جان پہچان ہو جائے گی اور وہ اعتراض کے بغیر انہیں منتخب کر لیں گے۔‘

اگلے روز 13 جولائی کو انہوں نے راولپنڈی کے علاقے ٹینچ سٹاپ سے لڑکی کو پک کیا اور اسلام آباد ٹریل تھری لے آئے۔

ایف آئی آر کے مطابق دن تین بجے کے قریب ملزم نے لڑکی کو جنگل میں پہنچا کر گن پوائنٹ پر ریپ کیا۔ شور مچانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی، اس وجہ سے لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ ڈر کر خاموش رہیں اور بعد میں ملزم نے انہیں واپس ٹینچ سٹاپ پر اتار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لڑکی نے پولیس سے قانونی کارروائی کی استدعا کی ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ’متاثرہ خاتون نے گذشتہ روز رات کے وقت واقعہ رپورٹ کیا ہے جس پر پولیس کارروائی عمل میں لا رہی ہے اور میرٹ پر اس کیس کو دیکھا جائے گا۔‘

مارگلہ کے پہاڑوں پر واقع ٹریل تھری نیشنل پارک کا حصہ ہے جو اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے زیر انتظام ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے چیئرپرسن اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ رینا سعید خان سے بات کی جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے پر کوئی بیان نہیں دے سکتیں کیونکہ یہ ایک پولیس کیس ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد محکمہ وائلڈ لائف نے جمعے کو ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق وائلڈ لائف نیشنل پارک جنگلی حیات کے تحفظ کا ضامن ہے اور کسی بھی مجرمانہ سرگرمی کی اطلاع مقامی پولیس کو فراہم کرتا ہے۔

بیان کے مطابق اسلام آباد وائلڈ لائف مقامی پولیس کو تفتیش میں مکمل معاونت فراہم کرتا ہے اور مبینہ ریپ کے کیس کی تحقیقات مقامی پولیس انجام دے رہی ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button