سلام /یہ فاطمہ زہرا کی دعاؤں کا اثر ھے/حسن رضا

سلام
حسن رضا
زنداں کی مصیبت پہ جہاں گریہ کیا جائے
سجاد کی غربت کا وہاں پرسہ دیا جائے
یہ تعزیہ داری یہ علم مشک سکینہ
یہ عین عبادت ھے عبادت میں رہا جائے
یہ شہر عزا نقش کف پائے علی ھے
اس شہر عزا میں کہیں سجدہ بھی کیا جائے
ھے فرش عزا فاطمہ زہرا کی امانت
اس فرش عزا پر کوئی قصہ نہ گھڑا جائے
آتی ھیں یہاں پرسہ شبیر کو زہرا
اس فرش پہ بس ماتم شبیر کیا جائے
"زینب کی ردا چھنتی ھے اکبر ھیں نہ عباس”
"سورج سے ذرا کہہ دو کہ پردے میں چلا جائے میں”
آنکھوں سے رواں ھوتا ھے اشکوں کا سمندر
پانی جو حسین ابنِ علی کہہ کے پیا جائے
عباس کے لاشے کو نہ لاؤ در خیمہ
عباس کی غیرت سے گوارا نہ کیا جائے
کربل کی زمیں تپتی ہوئی تربت اصغر
ھے کوئی عزادار چراغوں کو جلا جائے
اس دنیائے نا چیز کی ہر شہ کو بھلا کر
بس آ ل محمد کی مودت میں جیا جائے
یہ خوشبو ئے مہدی ھے جو کرتی ھے اشارہ
کہہ دو یہ غلاموں سے کہ تیار رہا جائے
یہ فاطمہ زہرا کی دعاؤں کا اثر ھے
پھر کیسے رضا فرش عزا پر سے اٹھا جائے



