غزل
غزل | حوالے صبح کے کر آیا کب کا چرواہا | احسان خان زرین
غزل
حوالے صبح کے کر آیا کب کا چرواہا
ہمارے خواب کی بھیڑوں کو شب کا چرواہا
یہ بات طے ہے کہ اب کائناتی ریوڑ بھی
کسی طرف کو تو ہانکے گا رب کا چرواہا
بلا کے دشت میں رحمت بھرے گلاب اُگے
جہاں جہاں سے بھی گزرا عرب کا چرواہا
یہ اور بات کہ دِکھتا نہیں ہوں خانہ بدوش
حقیقتاً تو ہوں نام و نسب کا چرواہا
غضب دکھاتا کوئی فصل کی تباہی پر
سبب بناتا ہوا بے سبب کا چرواہا
اُسی کے ذمے لگایا ہے کائنات کا رزق
جسے خدا نے بنایا ہے سب کا چرواہا
جو سو رہا ہو تو ہوں اس کی اَدھ کھلی آنکھیں
کب ایسی فکر میں سوتا ہے اب کا چرواہا
زرین ! اُجاڑ چکا باپ کا دیا ہوا مال
نہ ڈھب کا بیٹا بنا میں نہ ڈھب کا چرواہا




