نظم

محبت سے آگے | عادل وِرد

محبت سے آگے

یہ جو کچھ بھی ہے،

محبت کے نام پہ

پیارا ہے

 

سرخ گلاب،

صندوق میں چھپایا 

وقت کی گرد سے اٹا ہوا خط،

تین گلابی چوڑیاں،

ایک خیالی بوسہ

اور تمہارے تصور میں گزارے 

روزمرہ سے چرائے ہوئے کچھ لمحے _______ سب بہت پیارا ہے

 

سوچتا ہوں

ایک دن اور آدھی رات ایجاد کروں 

دن کو رات کے اندھیرے سے سرمئی کر دوں

ادھورے خواب دوبارہ سے دیکھوں

اور چونکے بنا جاگنے پر

تمہیں کل کے حوالے کر دوں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x