نظم
منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

منظر کے اس پار
کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں
حسین، دلکش ہوں، دلربا ہوں
میں کن خرابوں میں پڑ گئی ہوں
میں تلخ نظمیں ہی لکھ رہی ہوں!
مجھے یہ حق ہے رومان لکھوں
حسین پیکر کوئی تراشوں
پھر اس کے لہجے میں
اس کی باتوں پہ شعر لکھوں
میں ہجر و ہجرت کی داستاں میں
نشاط و عشرت کے راگ گھولوں
صدائے داد و نوا سمیٹوں
مگر ان آنکھوں کا کیا کروں میں؟
جو پار منظر بھی دیکھتی ہیں
نہیں ہے کچھ واں ،
مگر اذیت!
جہاں پہ چہروں کے سب لبادے اتر چکے ہیں
جہاں پہ لفظوں کی سب فریب و فسوں کی مالا بکھر چکی ہے
جہاں پہ سچائی ننگے پاؤں، سلگتی لاشوں پہ چل رہی ہے
جہاں پہ ‘بھوک’ اپنی آگ لے کر
کسی کی ممتا کو کھا رہی ہے
جہاں پہ جنگوں کے کالے سائے
زمیں کا انچل جلا رہے ہیں
یہ پار منظر کی آشنائی
مرا اثاثہ، مرا ہنر ہے۔
کبھی تو آنکھوں!
مجھے ہنر سے رہائی دے دو!




