نظم
کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان
کناروں سے بہتا ابہام
کنارے لبالب بھرے ہیں
مگر پیاس کا تٙل
سسکتے سسکتے
سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے
لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے
ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل
ابھی قافلوں کی کشاکش میں گم ہیں
تھرکتے ہوئے دونوں پنچوں پہ بادل
ابھی دور تک تا بہ حدِ نظر
ریت ہی ریت ہے
اپنے غم میں دہکتی
بدن سے چمکتی
سمندر سے بچھڑی ہوئی
بھربھری ریت ہے
کشاکش سے پہلے
بخارات کا آبی ہیکل مکمل نہیں تھا
مگر اپنی تاثیر میں رس بھرا تھا
کڑکتی ہوئی بجلیوں کے کئی ایک ریوڑ
جنہیں بھوک لگتی نہیں تھی
ہوا سے الجھتے لپکتے ہوئے
ایک دوجے سے سر مارنے کو
دوپایوں پہ ترچھے لہکتے
تو لگتا کہ ناٹک میں
رقّاص کی لہلہاتی ہوئی سرد جنگیں چھڑی ہیں
آنکھیں
کناروں سے ٹھوڑی لگائے
تماشے کا مطلب سمجھنے کی ناکام کوشش کیے جا رہی ہیں
کنارے لبالب بھرے جا رہی ہیں




