غزل
غزل | جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا | نسیم عباسی

غزل
جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا
شہر کا شہر ہی حمّام نکل آئے گا
آؤ کچھ دیر محبت سے کہیں مل بیٹھیں
کام سے اور کوئی کام نکل آئے گا
میں سمجھتا تھا کہ قسمت کا دھنی نکلوں گا
قرعہِ شوق مرے نام نکل آئے گا
پہلے صرّاف کا ایمان پرکھ لو ورنہ
زرِ احمر بھی مسِ خام نکل آئے گا
جھوٹ کی نقشہ کشی ایسے کرے گا کوئی
شہرِ لاہور سے آسام نکل آئے گا
یہ الگ بات کوئی دیکھے نہ دیکھے اس کو
چاند نکلا تو سرِ شام نکل آئے گا
میں نے رکھی ہے نسیم اس سے توقع جیسے
نیم کے پیڑ پہ بادام نکل آئے گا




