زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

زلیخا : میں یوسف !
ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں
جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے
وہ ممتا سی عورت بہت تھک چکی ہے
مداراتِ مُدّت کے نیزوں نے چہرے پہ ایسے نشانوں کا دھاوا رچا ہے
کہ آنکھوں کے کنچے لُڑھک کر خیابانِ گُل ایسے گالوں میں دھنس، بس چکے ہیں
کبھی اس کی آنکھیں ہجومِ شہر کے امڈ آئے جنگل میں نالاں سی پِھرتیں
کبھی اس کا للّا نقاہت سے ہونکیں لگاتا یا تالی بجاتا اسے چھیڑ دیتا
وہ ہنستی
مگر اس کے ہنسنے میں کچھ بھی نہیں ہے
نہ عہدِ محبت، نہ شیریں لطافت، نہ ممتا سی عورت
لٹوں کو لبوں سے ہٹاتے ہوئے بھی اسے کیا خبر ہے کہ قلی لبادے میں چند ایک بوڑھے اسے تک رہے ہیں
اسے کیا خبر ہے کہ رانوں سے لپٹے لباسِ سیاہ کا رفو کھل گیا ہے
اسے کیا خبر ہے کہ باسی نوالوں سے معدے میں تیزاب قے بن رہا ہے
اچانک کہیں سے کوئی بوڑھا لاٹھی بجاتا، آوازیں لگاتا اسی سمت آیا
"ٹرین آ رہی ہے!”
"ٹرین آرہی ہے؟” عجب بڑبڑائی
پھر ایک بازو میں للّا اٹھائے، منوں وزنی گھٹڑی کمر پر جھکائے
خراماں سے قدموں پہ دو جسم لادے
صدائیں لگاتی "خدا دے!” ، "خدا دے”
کہیں چل پڑی وہ
"بھلا کون ہے یہ؟ یہ وہ تو نہیں ہے!”
"لگتی وہی ہے! یہ ہرگز وہی ہے!”
مرے دل کے اندر کوئی چیز ٹوٹی
"زلیخا؟” میں چیخا
"کیا ہے؟” وہ پلٹی
میں تھم کر کروڑوں زمینوں کے اندر دھنسا ہوں
حراسِ اذیت سے آنکھوں کی نوری بہے جا رہی ہے
"زلیخا؟ یہ تو ہے؟”
"وہی تو؟ کہ جس کے محلّات پر سینکڑوں دست بستہ سپاہی کھڑے تھے؟”
"وہی تو؟ کہ جس کے حسن پر کئے مر گئے تھے؟”
"وہی تو؟ کہ جس نے مرے دل کے اندر بڑا گھر کیا تھا؟”
"وہی تو؟ کہ جس نے بہشتِ مقدس میں باغِ عدن سَر کیا تھا؟”
"وہی تو کہ جس نے کہا تھا سفر کر سفر کر کبھی تو ملوں گی؟”
"ہیں؟ ابے کون ہے تو؟” عجب سٹپٹائی
"میں یوسف!”
میں فوراً سے بولا
"میں یوسف جسے اس کے بھائی دغا دے گئے تھے”
"میں یوسف جسے زندگی نے کسی کُند کنویں میں اوندھا کیا تھا”
"میں یوسف ہوں جس کے لباسِ قُبُل پر تری تشنگی ہے”
"زمانوں زمانوں میں تیرے تعاقب میں بکھرا ہوا ہوں”
"تجھے ڈھونڈتا ہوں!”
"ارے جا!”
"اگر دس روپے ہیں تو جھولی میں سَٹکا کہ اپنی سی راہ لے”
"نکل لے یہاں سے”
"بڑے تجھ سے دیکھیں ہیں جو نامور ہیں”
"مجھے سب پتہ ہے کہ تو اپنی باتوں میں مجھ کو پھنسا کر،
کسی کال کٹھری میں بستر سجا کر،
نیا ایک بچہ مجھے سونپ دے گا!”
"بڑا آیا یوسف”
"یہ مذھب قصیدے، قرآنی ملامت، خدا کی قیامت، مجھے سب پتہ ہیں!”
"تجھے کچھ ہوا ہے تبھی تیری آنکھیں کسی کی اذیت سے ہر ذی مؤنث زلیخا دکھانی شروع کر چکی ہیں”
"چلا جا یہاں سے”
"کوئی اور ہوگی جسے تیرے دل سے کبھی کچھ شغف تھا”
"مگر میں نہیں ہوں!”
اچانک کہیں سے وہی ایک بوڑھا آوازیں لگاتا، عصا دندناتا، مری سَمت آیا
"ٹرین آ چکی ہے!”
"ہاں آ چکی ہے!”
"زلیخااا!” میں چیخا، پکارا
"چلا جا” وہ آگے کو چل دی!




