نظم
ہنرِ وفا | زمان معظّم

ہنرِ وفا
میں نے اُس کی بے سمتی کو
سمتِ تعیّن دی
اُس کے پژمردہ وجود میں
رمقِ اشتیاق کی شمع فروزاں کی
حرفِ خاموش کو
آہنگِ وقار کی جِلا بخشی،
اُس کی مدھم سانسوں میں
توقیرِ اظہار کی حرارت بھری
اس کے نام کا چراغ
جب فصیلِ شہرت پر روشن ہوا
تو پہلا سنگ
اس کے دستِ التفات سے
میرے آستانِ وجود پر پھینکا گیا ۔
میں، جو اس کے امکان کا معمار تھا،
اپنی ہی تخلیق کے ہنر وفا میں
دب گیا۔۔۔




