نظم
قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

قدیم رسم
رات
جس ملال کا
تذکرہ کرتی آئی ہے
وہ
جسموں کی پاکی
نجانے کس غسل سے
ہو ممکن
خدوخال دریا سے
معلوم ہونے لگے ہیں
لہریں منہ پر
مچلنے لگتی ہیں
کون لوگ ہیں؟
جو پرانے راگ الاپتے ہیں
اور قدیم روحوں کی
محفل میں خاک سے
کنارہ کرتے ہیں
مصلوب ہو رہی ہیں
ہماری روحیں
ہم بھی صلیب پر
ایک روز
لٹکائے جائیں
تو کنواری مریمؑ
کے بازوں میں آرام کریں
ماں جانتی ہے
تھکن دار کی
ہتھیلیوں سے بہتا لہو
لٹکے ہوئے لاشے
خداوندا یہ تو
وہی رسم ہے
حق بات پر
”ڈٹ جانے کی“




