اندیشہ | اعجازالحق

اندیشہ
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں
کہ یادوں کے سبھی جگنو، گھٹاؤں میں ہی کھو جائیں
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
کہ کلیوں کی مہک کم ہو، چمن کا رنگ مدھم ہو
کہ موسم پھر پلٹ جائے، بہاریں زرد ساگر ہوں
یہی چہرہ، یہی آنکھیں، یہی ہونٹوں کی سرگوشی
یہی خوشبو، یہی لہجہ، محبت کی یہ خاموشی
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
یہ سب خوابوں کی صورت میں فقط آنکھوں میں رہ جائیں
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
کہ ساون کی حنائی رات بھی سنسان ہو جائے
کہ لمحوں کی چمک اب کے، فقط اک راکھ ہو جائے
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
کہ تم بادل کے سائے کی طرح مجھ سے بچھڑ جاؤ
میں ٹوٹے آئینوں کی کرچیاں بن کر بکھر جاؤں
سنو جاناں!
تعلق کی جڑیں کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو جائیں
ہوائے ہجر چلتی ہے تو منظر کانپ جاتے ہیں
کہیں ایسا نہ ہو جاناں!
جدائی کی کوئی کالی گھٹا رستے میں آ جائے
ہمارا ساتھ، قسمت کی کسی لرزش میں کھو جائے
پلک جھپکنے کی مہلت میں زمانے بیت جاتے ہیں
مقدر کی لکیریں ٹوٹتے کب دیر لگتی ہے؟




