نظم
ایتھینا | باسط پتافی

ایتھینا
کوئی دیوی
کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا
میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی
میں نہ میلے میں گئی ہوں
نہ میں جاؤں گی کبھی
میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی
تو کیا؟
میں ابھی جنگ کے آداب سے واقف ہی نہیں
مجھ کو دانش کی خبر ہے نہ ہنر ہے کوئی
وہ سراپا ہنر و دانش ہے
جنگجو ہے
اس کے نو بھائی ہیں اور نو بہنیں
میرے ماں باپ بھی معلوم نہیں
اس کی عصمت کے محافظ
دیوتا ہیں
اور مرا جسم تو نیلام گہِ دنیا ہے
میں تو ایتھنز کی ویران گلی کی باسی
بارثینون نہیں جا سکتی
کوئی معبد
کوئی میلہ
کوئی زیتون کا سایہ
نہیں ہے میرے لیے




