غزل

غزل | چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے | ارمان جودھپوری

غزل

چھوڑ کر سب کو سرِ کوئے بتاں ٹھہری ہے 

دیکھ تو میری نظر جا کے کہاں ٹھہری ہے   

ایک مدّت سے مرے لب کا دیچہ نہ کھلا 

منجمد آہ مری سوئے زباں ٹھہری ہے 

اپنے پتے تو مری زیست نے کھولے ہی نہیں 

بند مٹھی میں لئے سود و زیاں ٹھہری ہے 

بات بے بات میں یہ بات تو بڑھتی جاتی 

بات بڑھتی گئی تو بات کہاں ٹھہری ہے 

اِس قدر اُس پہ ستم تُو نے ہے ڈھائے کے اب 

مسکراہٹ بھی تری ایزا رساں ٹھہری ہے

ذہن کے پاوں میں اُمید کے گھنگھرو باندھے 

شب کی آغوش میں اک صبحِ جواں ٹھہری ہے

یا اِلٰہی تو بہاروں میں بدل دے اُس کو 

ایک مدّت سے چمن میں جو خزاں ٹھہری ہے

 یار مت پوچھ کہ کیسے ہوئے ہیں دریا رواں

جب کبھی آپ کی انکاری میں ہاں ٹھہری ہے  

پیار میں باتیں مسلسل ہی چلے ہیں ارمآن

باتیں کرنے لگیں آنکھیں تو زباں ٹھہری ہے 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x