Over Laping | گل جہان

Over Laping
مجھے اک نظم لکھنی ہے
کہ جس کے خال و خد سے یار کی شکلیں نہ ملتی ہوں
زبان اس الگ ،
آواز کا رس یار کی آواز سے بالکل جدا ہو
اور لہجے کی طراوت مختلف ہو
لباس اس کا ذرا سا شوخ ہو لیکن
کہیں سے گندمی سرخی نہ ہو اس میں
یہی وہ رنگ ہے جو اس کا جسمانی تعارف ہے
لچک اور لوچ میں اس کی ذرا بھی شائبہ اس شخض کے جیسا نہ ہو
اور ہاں یہ لمبائی میں ، قوسوں میں
کہیں سے میری دیکھ بھالی تو ہرگز نہ ہو
مجھ کو مکمل ابتکاری جسم میں اک نظم کی بے حد ضرورت ہے
یہ آنکھوں کے اشاروں کی طریقت میں نئی ہو
ناک سے بالکل انوکھی ہو
یہ خوشبو میں تو بس اتنی نویلی ہو
کہ مجھ بے ذوق کو شاعر بنا ڈالے
میں پھر سے یار کی نظموں پہ آخر دم ہوا جاتا ہوں
یہ پھر اک نظمیہ تصویر میرے یار کی ہم شکل ہے
میں اپنے دائرے کو توڑنے سے
پھر بہت ناکام لوٹا ہوں
عجب ہوں
دور جانے کی لگن میں ضم ہوا جاتا ہوں۔۔۔۔۔
اس میں روشنی بھرتے ہوئے
مدھم ہوا جاتا ہوں
خاصہ کم ہوا جاتا ہوں




