غزل
غزل | گھنے درختوں میں چھپ کر کہیں پہ روتا ہے | وسیم نادر
غزل
گھنے درختوں میں چھپ کر کہیں پہ روتا ہے
کوئی تو ہے جو اداسی کے بیج بوتا ہے
میں اپنے خواب سبھی اس کو سونپ آیا ہوں
وہ شخص جو مرے حصّے کی نیند سوتا ہے
کسی کسی پہ سمندر یہ راز کھولے گا
کہ کون کون یہاں کشتیاں ڈبوتا ہے
تمہاری آنکھیں کسی اور کی گرفت میں ہیں
مگر یہ شانے مرے کون اب بھگوتا ہے
حسین ہوکے اگر بد مزاج ہے تو ہے
گلاب میں بھی تو کالا گلاب ہوتا ہے
Author
URL Copied




