زرد موسم، زرد چہرے
آج سورج کی روشنی شکستہ ہے
دھوپ میں بھی
جیسے تھکن اتر آئی ہو
یہ زردی مائل موسم
مجھے جینے نہیں دیتا
بدلتے موسم
میرے لیے عذاب سے کم نہیں
پرندوں کی آوازوں میں
جیسے صدیوں کا نوحہ گھلا ہو
ہر صدا
میرے اندر
کسی بوسیدہ دن کو چھیڑ دیتی ہے
نیا موسم
نئی کیفیت کے ساتھ
میرا چہرہ بدل دیتا ہے
Author
URL Copied




