غزل
غزل | خوف و وحشت کے مارے چھوڑ آئے | عمیس احمر
غزل
خوف و وحشت کے مارے چھوڑ آئے
ہم اندھیرے میں تارے چھوڑ آئے
اک نظارے کی چاہ میں ہم لوگ
جانے کتنے نظارے چھوڑ آئے
ڈوب جائے نہ یہ کہیں ہم سے
پیاس دریا کنارے چھوڑ آئے
کہکشاں کی تلاش میں آخر
چاند ، سورج ، ستارے چھوڑ آئے
گھونسلوں کے زمیں پہ گرتے ہی
سب لکڑ ہارے آرے چھوڑ آئے
زندگی تجھ سے ملنے کی خاطر
خواب سارے ہمارے چھوڑ آئے
ایک امید اک چراغِ سَحر
ہم خدا کے سہارے چھوڑ آئے




