غزل
غزل | چہرے اور دل کی شکن ایک طرف رکھ دیجے | توحید زیب

غزل
چہرے اور دل کی شکن ایک طرف رکھ دیجے
اپنے لوگوں سے جلن ایک طرف رکھ دیجے
ہم کسی اور تعلق کا سہارا لے لیں
آج کی رات بدن ایک طرف رکھ دیجے
یہ حقیقت ہے کسی فلم کی شوٹنگ نہیں
دھمکیاں اور کفن ایک طرف رکھ دیجے
آخری عمر میں پرہیز وغیرہ کیسا
زندگی بھر کی گھٹن ایک طرف رکھ دیجے
ذات پر کیچڑ اُچھالو ، یہی تو آتا ہے
آپ موضوعِ سخن ایک طرف رکھ دیجے
اِن دنوں کُھل کے برستا ہے بدن کا بادل
ایسے موسم میں تھکن ایک طرف رکھ دیجے




