نظم
زرد پتوں کی راکھ | ضیاء الرحمن فاروقی
زرد پتوں کی راکھ
ہڑپہ کے کھنڈرات
شام کی دھول میں سانس لیتے ہیں
اینٹوں کی خاموش زبان
صدیوں کا دکھ سناتی ہے
قریب ہی ریلوے اسٹیشن ہے
جیسے وقت نے
ایک لمحے کو رک کر
پرانے شہر کو دیکھا ہو
ریل کی پٹری
لوہے کی لکیر نہیں
تہذیبوں کے درمیان کھنچی ہوئی
ایک تھکی ہوئی سانس ہے
درخت
پٹڑی کے دونوں طرف
خاموش سپاہی بنے کھڑے ہیں
ان کے زرد پتے
ہوا کے کندھوں پر سوار
آہستہ آہستہ گرتے ہیں
ہر پتہ
جیسے ہڑپہ کی کوئی بھولی بسری کہانی
جو زمین سے ٹکراتے ہی
راکھ میں بدل جاتی ہے
ریل گزرتی ہے
اور شور میں
تاریخ دب جاتی ہے
مگر زرد پتوں کی راکھ
ہوا کو یاد دلاتی ہے
کہ جو مٹ گئے
وہ مکمل طور پر
کبھی نہیں مرتے




