ادبی کالماُردو نثر

یاسین آفاقی کی نظم ”شاعری کے میلے کپڑے دھوتا ہوں“ دو متوازی قرآتیں : ڈاکٹر رفیق سندیلوی

یاسین آفاقی کی نظم ”شاعری کے میلے کپڑے دھوتا ہوں“ دو متوازی قرآتیں : ڈاکٹر رفیق سندیلوی

شاعری کے میلے کپڑے دھوتا ہوں : یاسین آفاقی

شاعری کے میلے کپڑے دھوتا ہوں

میرا دل شاعری کا آٹھواں سمندر ہے

شاعری نئے موسموں کے آنسو اور قہقہے لئے

زمین کی ہر شے سے پھوٹ نکلی تھی 

شاعری کا سیلاب 

میرے کندھوں سے آلگا 

اور مجھے ڈوبنے کا خدشہ تھا

 سیال تمثیلات میں ڈوبے ہوئے منظر

میری آنکھوں سے منعکس ہو کر 

مظاہر میں بہتی ہوئی برقی رَو سے مکالمہ کر رہے تھے

زمین کی ہر شے جو خفی اور جلی تھی 

ایک ہی لمحے میں اُبھر کر 

میرے سامنے وجود اختیار کر گئی تھی

یہ نیا منظر دیکھ کر 

میں دنیا کے پُل سے گزر کر 

عقلِ برتر کے مدار میں گیا

زندگی ایک نئے اسٹیشن سے نکلتی ہوئی ریل تھی

جو مسافروں کو اُداسی کے جال میں لپیٹ کر

سوچنے پر آمادہ کر رہی تھی!

یاسین آفاقی کی یہ نظم اپنے مزاج اور ساخت کے اعتبار سے محض تخلیقی اظہار نہیں، تخلیق پر خود تخلیق کار کا سنجیدہ مکالمہ ہے۔ شاعر یہاں کسی خارجی موضوع یا وارداتی کیفیت کو نظم کا مرکز نہیں بناتا بلکہ خود شاعری کے عمل کو سوال کے دائرے میں لے آتا ہے۔ یوں نظم ابتدا ہی سے ایک ایسے شعوری عمل کے طور پر سامنے آتی ہے جس میں شاعر اپنی تخلیقی حیثیت، اپنے وسائل اور اپنی زبان کا محاسبہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کو کسی فطری، معصوم یا پہلے سے پاکیزہ شے کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ "شاعری کے مَیلے کپڑے دھوتا ہوں” کا اعلان دراصل اس مفروضے کی نفی ہے کہ شاعری بذاتِ خود آلودگی سے ماورا ہوتی ہے۔ شاعر اس بات سے آگاہ ہے کہ تخلیقی روایات اپنے ساتھ تعصبات، فرسودگی اور سہل پسندی کے اثرات بھی سمیٹ لیتی ہیں اور اگر ان پر سوال نہ اٹھایا جائے تو شاعری محض اپنے ہی عکس کی تکرار بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے شاعر اپنی تخلیق کو بچانے کے بجائے اسے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور اس کی صفائی کا فریضہ خود انجام دیتا ہے۔ یوں نظم ایک ایسے بیانیے میں ڈھل جاتی ہے جو خود احتسابی، تطہیر اور تخلیقی ذمہ داری سے عبارت ہے۔ یہ کسی وجدانی سرشاری یا فنی برتری کا اعلان بھی نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا اخلاقی عمل بن جاتی ہے جس میں شاعر اپنی زبان، اپنے امیجز اور اپنے رویّوں کے نتائج کا جواب دہ ہوتا ہے۔ آج سے کم وبیش تین برس قبل میں نے اس نظم پر لکھا تھا کہ :

"مظاہر کی رَو سے وہی پانی مکالمہ کر سکتا ہے جو شاعری کے سمندر سے سیلاب کی صورت نکلا ہو۔ تخلیق کار کا کندھا کوئی معمولی کندھا نہیں۔ اصلاً یہ نظم تخلیق کار کے مرتبے کو پُر پیچ انداز میں دریافت کر رہی ہے۔ یہ مرتبہ اثبات و انکار اور راحت و رنج جیسی متعدد ثنویتوں سے تشکیل پاتا ہے۔”

میں نے جس پانی کی طرف اشارہ کیا تھا، وہ نظم کی قرأت کو ایک بنیادی نکتے کی طرف لے جاتا ہے اور محض ایک قدرتی یا علامتی شے نہیں رہتا بلکہ وہ پانی بن جاتا ہے جو تخلیقی تجربے کی انتہا سے گزر چکا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نظم میں پانی کی ہر صورت مثلاً عنوان میں مضمر تطہیری عمل سے لے کر سمندر، سیلاب، ڈوبنے کے خدشے, سیال تمثیلات اور مظاہر میں بہتی ہوئی برقی رَو تک تخلیقی عمل کے مختلف مراحل کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اسی طرح میرا یہ کہنا کہ تخلیق کار کا کندھا کوئی معمولی کندھا نہیں، نظم کی بظاہر سادہ سی ایک سطر کو وجودی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہ کندھا محض بوجھ اٹھانے کا استعارہ ہی نہیں، تخلیقی ذمہ داری، خطرے اور امکان کے بیک وقت ادراک کا نشان بھی ہے۔ یوں نظم تخلیق کو ایک عمل سے زیادہ ایک آزمائش کے طور پر پیش کرتی ہے۔۔۔ ایسی آزمائش جس میں ڈوبنے کا خدشہ بھی ہے اور اسے عبور کرنے کی امید بھی۔ اسی سیاق میں "مکالمہ کرنے والا پانی” نظم کی تعبیر کو ایک معنوی شرط کے طور پر متعین کرتا ہے جہاں پانی شے نہیں رہتا، ایک تجربہ بن جاتا ہے:

زمین کی ہر شے جو خفی اور جلی تھی 

ایک ہی لمحے میں اُبھر کر 

میرے سامنے وجود اختیار کر گئی تھی۔

یہاں "خفی اور جلی” اشیا پہلے سے مکمل حقیقتیں نہیں بلکہ تخلیقی امکان کی صورت میں موجود وہ عناصر ہیں جو سیلابِ تخلیق سے گزر کر ایک لمحۂ انکشاف میں وجود اختیار کرتی ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں شے تجربہ بن جاتی ہے اور معنی متن سے نکل کر شاعر اور قاری کے مابین وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس انکشاف کے فوراً بعد نظم شعور کی ایک اور سطح کی طرف بڑھتی ہے:

یہ نیا منظر دیکھ کر 

میں دنیا کے پُل سے گزر کر 

عقلِ برتر کے مدار میں گیا

یہاں "دنیا کے پُل سے گزرنا” محض مادی یا خارجی حقیقت سے انکار نہیں، اس شعور کی حد بندی کا اعلان ہے جو تخلیقی تجربے کو پوری طرح سمیٹ نہیں سکتا۔ “عقلِ برتر” اس نظم میں کسی متعین فلسفیانہ تصور سے زیادہ ایک شعوری امکان ہے جو تخلیق کے خطرے سے گزرنے کے بعد ہی دستیاب ہوتا ہے۔ اس مقام پر نظم قاری سے بھی یہی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ محض منظر نہ دیکھے بلکہ اس منظر کی تعبیر کے لیے اپنے شعور کو ایک نئے مدار میں منتقل کرے۔ 

یہاں نظم کے چند ایسے امیجز بھی متوجہ کرتے ہیں جو بظاہر پانی کے استعارے سے ہٹ کر دکھائی دیتے ہیں، لیکن اصل میں اسی تخلیقی تجربے کے بعد کی انسانی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ “زندگی ایک نئے اسٹیشن سے نکلتی ہوئی ریل تھی” اور “اداسی کے جال میں لپیٹ کر” جیسے امیجز نظم کو محض تخلیق کے لمحے تک ہی محدود نہیں رہنے دیتے، اسے جدید انسان کی رفتار، وقت اور بے سمتی کے تجربے سے بھی جوڑ دیتے ہیں۔ پانی کے سیلاب میں تخلیق کار کو ڈوبنے کا خدشہ تھا مگر ریل کے استعارے میں وہ ڈوب نہیں رہا، تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ایسی رفتار کے ساتھ جس پر اس کا اختیار کم اور جبر زیادہ ہے۔ اس تناظر میں ریل اور اسٹیشن تخلیقی وفور کے بعد پیدا ہونے والی اس حالت کی علامت بن جاتے ہیں جہاں معنی کی کثرت کے باوجود معنویت کا سوال اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ اداسی کا جال اسی جبری رفتار کا نفسیاتی اظہار ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان حرکت میں تو ہے مگر داخلی طور پر محصور ہے۔ یوں نظم پانی کے ذریعے تخلیق کی آزمائش دکھانے کے بعد ریل کے ذریعے اس تخلیق کے بعد کی عصری آزمائش کو سامنے لاتی ہے اور قاری کو اس سوال سے دوچار کرتی ہے کہ آیا خارجی رفتار واقعی داخلی فہم اور شعور کے ساتھ ہم آہنگ ہو پا رہی ہے یا نہیں۔

یہیں سے سوال اٹھتا ہے کہ آیا نظم تخلیق کار کے مرتبے کو صرف تصدیق کے طور پر پیش کرتی ہے یا اسے دریافت کے عمل سے گزارتی ہے۔ میرے موقف کے مطابق نظم اس مرتبے کو کسی پہلے سے مسلّمہ تصور کے طور پر نہیں برتتی بلکہ اسے اثبات و انکار، راحت و رنج اور غرقابی و عدم غرقابی جیسی ثنویتوں کے ذریعے قاری کے شعور میں بتدریج منکشف ہونے دیتی ہے۔ یہ ثنویتیں کسی حل پر منتج ہونے کے بجائے تخلیقی عمل کو ایک مستقل کشمکش میں برقرار رکھتی ہیں جہاں پاکیزگی آلودگی سے، امکان خطرے سے اور انکشاف اداسی سے مکمل طور پر جدا نہیں ہو پاتا۔ پاکیزگی اور آلودگی شاعر کے تخلیقی اور اخلاقی شعور کے درمیان کشمکش کی علامت ہیں، جہاں زبان اور استعارے کو صاف کرنا لازمی ہے تاکہ تخلیق حقیقی معنویت اختیار کرے۔ خطرہ اور امکان اس عمل کے اندرونی تنازع کو واضح کرتے ہیں یعنی تخلیق میں فنا یا ناکامی کے امکان کے ساتھ نئے معنوی امکانات بھی موجود ہیں۔ وفور اور جبر تخلیقی توانائی کی شدت اور انسانی محدودیت کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ انکشاف اور اداسی ان نتائج اور شعوری تجربے کی کیفیتوں کو سامنے لاتی ہیں جو تخلیق کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ قرأت جو میرے مؤقف سے نمو پاتی ہے، نظم کے کائناتی، اساطیری اور فکری تناظر کو تخلیق کار کے وجودی مرتبے سے جوڑ دیتی ہے۔ یوں نظم صرف کائنات کی تخلیق کا استعارہ ہی نہیں رہتی، شاعر کی ذات کی تخلیقِ نو کا بیانیہ بھی بن جاتی ہے۔

اس نظم کا ایک اور پہلو زبان کے اخلاقی کردار سے متعلق ہے۔ یہ پہلو نظم میں بار بار ابھرنے والے پانی کے استعارے سے جڑا ہوا ہے مگر یہاں پانی تخلیق یا سیلاب کے بجائے تزکیۂ زبان کا وسیلہ بنتا ہے۔ گویا شاعر وہی ہے جو زبان کو آلودگی، سہل پسندی اور نمائشی شاعری سے پاک کرنے کا خطرہ مول لے۔ "شاعری کے میلے کپڑے دھونا” محض تخلیقی عمل کا استعارہ ہی نہیں، زبان کی تطہیر کا اعلان بھی ہے۔۔۔۔ ایسا اعلان جو شاعر کو جمالیات کے ساتھ ساتھ جواب دہی اور ذمہ داری کے دائرے میں لے آتا ہے۔ یوں نظم تخلیق کار کے مرتبے کو نہ صرف وجودی یا کائناتی سطح پر بلکہ اخلاقی سطح پر بھی مشروط کر دیتی ہے اور قاری سے بھی یہی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زبان کو معنی بھی سمجھے اور امانت بھی۔

یہ قرآت جو میں نے پیش کی ہے، قاری اساس تنقید پر مبنی ہے، اس لیے یہاں ایک سوال خود بہ خود پیدا ہوتا ہے کہ اگر معانی متن میں جامد نہیں بلکہ قاری کی شمولیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اپنا جواز خود پیدا کرتے ہیں تو پھر یہ بھی دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آیا متن ان کے امکانات کو صرف پیدا کرتا ہے یا بعض مقامات پر خود انہیں غیر مستحکم بھی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ نظم جن اخلاقی، تخلیقی اور شعوری یقین کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے، کیا متن خود اسی یقین کو کسی سطح پر سوال کے دائرے میں بھی لے آتا ہے؟ یہ وہ نکتہ ہے جو ردِّ تشکیلی قرأت کی ضرورت پیدا کرتا ہے جو کسی نئی تعبیر کے بجائے متن کے اندر موجود تناؤ، لغزشوں اور معنوی عدمِ استقرار کو نمایاں کرسکتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو ردِّ تشکیل قاری اساس تنقید کی نفی نہیں، اس کی توسیع ہے جہاں قاری نہ صرف معنی تشکیل دیتا ہے بلکہ اس تشکیل کی حدوں کو بھی پرکھتا ہے۔ 

نظم کو اگر ردِّ تشکیل کے زاویے سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے خود وہ اخلاقی اور تخلیقی یقین متزلزل ہوتا ہے جس پر نظم بظاہر ایستادہ دکھائی دیتی ہے۔ شاعر اگرچہ "شاعری کے مَیلے کپڑے دھونے” کا اعلان کرتا ہے مگر یہ اعلان خود اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آلودگی اور تطہیر کے درمیان حد کہاں قائم کی جا سکتی ہے؟ نظم جس زبان کو صاف کرنے کا ارادہ ظاہر کرتی ہے، اسی زبان میں اپنے استعارے، تمثیلات اور اخلاقی دعوے قائم کرتی ہے۔ یوں تطہیر کا عمل کسی بیرونی معیار کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اسی آلودہ زبان کے اندر انجام پاتا ہے جس سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ زبان کبھی مکمل طور پر پاکیزہ ہو ہی نہیں سکتی۔ "مَیلے کپڑے” دھلتے ہیں مگر میل کی تعریف خود غیر مستحکم رہتی ہے کیونکہ نظم یہ طے نہیں کرتی کہ کس مقام پر زبان اخلاقی طور پر قابلِ قبول قرار پاتی ہے۔ 

اسی طرح پانی کا استعارہ جو بظاہر تخلیقی مراحل کی علامت ہے، ردِّ تشکیل میں اپنی وحدت کھو دیتا ہے۔ سمندر، سیلاب، رَو اور ڈوبنے کا خدشہ ایک مربوط نظام بننے کے بجائے ایک دوسرے کو منسوخ بھی کرتے ہیں۔ اگر سیلاب تخلیقی وفور ہے تو ڈوبنے کا خدشہ اسی وفور کی نفی بن جاتا ہے؛ اگر رَو مکالمہ ہے تو وہی رَو معنی کو کسی ایک سمت میں ٹھہرنے نہیں دیتی۔ یوں پانی تخلیق کا استعارہ ہونے کے ساتھ ساتھ معنی کے عدمِ استقرار کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ نظم تو کہتی ہے کہ وہی پانی مکالمہ کر سکتا ہے جو سیلاب کی صورت نکلا ہو، مگر ردِّ تشکیل میں یہی شرط سوال کے دائرے میں آ جاتی ہے۔ وہ یہ کہ کیا مکالمہ ممکن ہے یا یہ محض معنی کی مسلسل سرکشی ہے؟ "خفی اور جلی” اشیا کا ایک ہی لمحے میں وجود اختیار کرنا بھی بظاہر انکشاف کا منظر ہے مگر یہاں بھی ڈی کنسٹرکشن انکشاف کے تصور کو غیر حتمی بنا دیتی ہے۔ جو چیزیں ظاہر ہو رہی ہیں، وہ کسی حتمی معنویت پر منتج نہیں ہوتیں بلکہ محض ظاہر ہونے کے عمل میں موجود رہتی ہیں۔ وجود اختیار کرنا یہاں مکمل ہونا نہیں بلکہ ظاہر ہونے کا ایک لمحاتی واقعہ ہے جو اگلے ہی لمحے معنی کی گرفت سے پھسل سکتا ہے۔ اس طرح نظم جس انکشاف کو تخلیقی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے، وہ دراصل معنی کی ناپائیداری کو مزید واضح کرتا ہے۔ 

اسی عدمِ استقرار کا تسلسل “دنیا کے پُل” اور “عقلِ برتر” میں بھی نظر آتا ہے۔ بظاہر یہ حرکت ایک اعلیٰ شعوری سطح کی طرف ہے مگر ردِّ تشکیل میں یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ کیا واقعی کوئی برتر عقل حاصل ہوتی ہے یا محض شعور کی ایک نئی مگر غیر محفوظ سطح سامنے آتی ہے۔ پُل عبور ہو جاتا ہے مگر اس کے بعد جو مدار ہے وہ بھی کسی حتمی مرکز کا حامل نہیں۔ یوں نظم جس شعوری ارتقا کی طرف اشارہ کرتی ہے، وہ بھی ایک غیر مکمل، عارضی اور سوال زدہ حالت میں رہتا ہے۔ اسی تناظر میں ریل اور اسٹیشن کا استعارہ محض جدید زندگی کی رفتار کا بیان نہیں رہتا بلکہ تخلیقی معنی کے انجام پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اگر تخلیق کے بعد زندگی ایک نئی ریل میں داخل ہو جاتی ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تخلیق کوئی اختتامی نکتہ فراہم نہیں کرتی۔ ریل کی حرکت مسلسل ہے مگر اس کی سمت طے شدہ اور مسافر کی مرضی سے باہر ہے۔ یوں ظہورِ معنی کے بعد بھی انسان جبر اور بے اختیاری کے نظام سے باہر نہیں نکلتا۔ اس مقام پر نظم خود اپنے اس دعوے کو منسوخ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ تخلیق کسی شعوری نجات یا استحکام تک پہنچا سکتی ہے۔

آپ نے دیکھا کہ نظم دراصل تطہیر، اخلاق، تخلیقی ذمہ داری اور شعوری برتری جیسے تصورات کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مسلسل غیر مستحکم بھی کرتی ہے۔ نظم کسی ایک معنوی مرکز پر ٹھہرنے کے بجائے معنی کو حرکت میں رکھتی ہے جہاں ہر استعارہ اپنے ہی مفہوم کو چیلنج کرتا ہے۔ یوں یہ متن نہ صرف شاعری کی تطہیر کی بات کرتا ہے بلکہ خود اس امکان کو بھی منکشف کرتا ہے کہ تطہیر ایک مسلسل، نامکمل اور سوالیہ عمل ہے جو کبھی حتمی صورت اختیار نہیں کرتا بلکہ ہر قرأت کے ساتھ دوبارہ کھلتا اور بکھرتا ہے۔

یوں نظم کی دونوں قرأتیں کسی فیصلے کے بجائے ایک امکان پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ امکان اس بات کا ہے کہ نظم کو نہ مکمل طور پر کائناتی بیانیے میں سمیٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی محض تخلیق کار کے وجودی تجربے تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس امکان کی توسیع میں ردتشکیلی قرأت یہ بھی واضح کرتی ہے کہ نظم خود ان معنوی دائروں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر سوال بھی قائم کرتی ہے اور یوں کسی ایک مرکز پر نہیں رکتی ۔ “شاعری کے میلے کپڑے دھونا” دراصل اس خطرے کا نام ہے جو شاعر، قاری اور ناقد، تینوں کو درپیش ہے اور وہ ہے زبان کو معنی کی سہل کاری سے نکال کر ذمہ داری کے اس پانی میں اتارنے کا خطرہ جو تطہیر بھی کرتا ہے اور معنویت کو مستقل امتحان میں بھی رکھتا ہے۔ اس نظم کی قوت یہی ہے کہ یہ کسی ایک قرأت پر مطمئن نہیں ہونے دیتی بلکہ ہر نئی قرأت کے ساتھ یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیتی ہے کہ آیا ہم زبان کو صرف برت رہے ہیں یا اس کی تطہیر میں شریک بھی ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں نظم ختم نہیں ہوتی، سنجیدہ قرأت کے ساتھ ازسرِنو شروع ہو جاتی ہے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x