غزل

غزل | جن چراغوں کی ضیا ہوتی تھی | عقیل عباس

غزل 

 

جن چراغوں کی ضیا ہوتی تھی

ان پہ مامور ہوا ہوتی تھی

 

جن دنوں عشق نہیں ہوتا تھا

کالے پانی کی سزا ہوتی تھی

 

رات پہلو میں پری کے سوتے 

آنکھ کھلتی تو بلا ہوتی تھی

 

بڑے بوڑھے ہی بتاتے ہیں ہمیں

اگلے وقتوں میں وفا ہوتی تھی

 

بعد میں کیا ہوا معلوم نہیں

اس کی آنکھوں میں حیا ہوتی تھی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x