غزل
غزل | کسی سے کی نہ شکایت اداس لوگوں نے | عثمان حالم
غزل
کسی سے کی نہ شکایت اداس لوگوں نے
زبان سی لی اذیت شناس لوگوں نے
مجھے وفا کے عوض بے وفائی دیتے ہوئے
رکھا نہیں ہے مروت کا پاس لوگوں نے
پرکھ نہ پائے روانی میں جوہری گوہر
مجھے گنوا دیا عجلت میں خاص لوگوں نے
ہمارے شعر کو بے نام کیوں کیا شائع
چنی ہے کیوں بنا اجرت کپاس لوگوں نے
کبھی تو ابر بہاراں برسنے آئے گا
رکھی ہوئی ہے محبت کی آس لوگوں نے
ہزار حیف کدورت سے چھین لی حالم
مرے مزاج کی لذت ، مٹھاس لوگوں نے




