
2/3/1990
کوٹ عبد الرحمٰن
سلام عرض
خالہ کلثوم !
کیسی ہیں آپ ؟
خالہ میں سونیا ، آپ کی بہن ثریا کی بیٹی ۔
امی نے مجھ سے آپ کو کئی بار خط لکھوائے وہ خط کبھی آپ تک نہ پہنچا سکیں جنہیں وہ اپنے تکیے کے نیچے رکھ کے روتی رہتیں ، جب سے امی بیمار ہو کر بستر سے لگیں تب سے دادی کو موقع مل گیا آتے جاتے امی کو نانی اور نانا کے گھر کے طعنے دیتی رہتیں۔۔۔ ہم لوگ نانا نانی سے کبھی نہیں ملے نہ ہی کبھی آپ سے ملاقات ہوئی ۔۔۔ بابا بھی کچھ نہیں بولتے جب دادی امی کو برا بھلا کہتیں تب بابا امی کے پاس بیٹھ کے انہیں تسلی دیتے کہ ” سب ٹھیک ہو جائے گا ثریا ۔۔ ہم چلیں گے نا تمھارے گھر ۔ ” امی اکثر نیند میں بڑبڑاتیں ” کلثوم میرا ہاتھ نہ چھوڑ۔۔۔۔ کلثوم میرا ہاتھ نہ چھوڑ۔۔۔” پھر چونک کر نیند سے اٹھ جاتیں ۔ خواب اور خیال میں بس آپ کا ہی ذکر کرتیں۔۔” میری کلثوم ، میری بہن ، میری پیاری بہن ۔”
خالہ کلثوم !
آپ لوگ امی سے ملنے کیوں نہیں آتے؟ نانا، نانی کے ذکر پر امی گھنٹوں چپ سادھ لیتیں ۔ بابا کہتے ہیں ” ابھی حالات ٹھیک نہیں ہیں ، جب سب ٹھیک ہو جائے گا تب چلیں گے تمھارے ابا کے گھر ۔” دادی میرے بابا سے اکثر کہتی ہیں” اسے باہر نہ جانے دو یہ بھی ایک دن گھر چھوڑ کے بھاگ جائے گی اپنی ماں کی طرح” میری امی تو سب کا خیال رکھتی ہیں ۔ پھپھو اپنے بچے لے کر گھر آگئی ہیں ۔ امی ان کے بچوں کے بھی سارے کام کرتی ہیں پھر بھی دادی ، امی سے خفا رہتی ہیں ۔امی نے بابا سے کئی بار کہا کہ آپ سے رابطہ کریں آپ ان سے ملنے ضرور آئیں گی ۔ بابا کہتے ہیں ” کلثوم دوسرے شہر میں ہے جب بھی مجھے اس کا پتہ ملا تو میں ضرور جاؤں گا ، اسے لے کر آؤں گا تمھارے پاس۔” بابا امی کا ہر بات پر ساتھ دیتے ہیں ۔ جب امی رونے لگتی ہیں تو امی کے آنسو صاف کرتے کرتے خود بھی رو پڑتے ہیں ۔ اور امی سے معافی مانگتے ہیں کہ ” ثریا میری وجہ سے تم اپنوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہو گئی ہو ۔ ”
خالہ کلثوم !
امی نے اپنے سرہانے رکھے سارے خط بابا سے جلوا دیئے ہیں کہتی تھیں کہ اب مجھ سے ملنے کوئی نہیں آئے گا ۔
خالہ جی !
امی ہم سب کو چھوڑ کے چلی گئ ہیں , ان کے جانے کے بعد بابا کو آپ کا پتہ ملا ہے ۔ میں آپ کو پہلے بھی خط لکھتی رہی ہوں اب یہ آخری خط لکھ رہی ہوں ۔ دس مارچ کو امی کی برسی ہے ۔ پچھلے سال اسی تاریخ کو وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں اللہ کے پاس ۔
آپ چاہیں تو ثریا کی بیٹی سے ہی ملنے آ جائیے گا۔
منتظر
سونیا
آپ کی اسی ثریا کی بیٹی جسے آپ نے انگلی پکڑ کے چلنا سیکھایا تھا۔




