اُردو ادبخطوط

خط بنام دوست /زید محسن حفید سلطان ،کراچی

السلام علیکم
صدیق مکرم!

خیریت مطلوب ٬ عافیت مقصود

بڑے دن ہوئے دل میں آپ سے ہم کلامی کی تڑپ پیدا ہوئی ہے لیکن کیا کہئے کہ اس کے تمام راستے ہی مسدود نظر آئے ٬ کبھی آپ مصروف ہوئے تو کبھی فون بند گو کہ کبھی سانسیں اکھڑیں تو کبھی خون بند لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں کہ:
اپنا شیوہ ہی نہیں کہ شکایت کیجیے
سو ہم بھی گوشہ نشیں اور خاموش مکیں ہو کر رہنے لگے کہ اگر اظہارِ دل سرِ بازار ہو گیا تو نہ حلقہِ یاراں سکوت میں رہے گا اور نہ یہ بندہِ صد آراء سکون میں لیکن کیا کیجئے ہماری خاموشی بھی کارگر نہ رہی اور
یوں ہی ذرا جو خموش رہنے لگے ہم
لوگوں نے کیسے کیسے فسانے بنا لئے
والا حال ہو گیا۔
یہ دیکھ کر بے قراری ایسی بڑھی کہ بے قراری بھی بے قرار سی نظر آنے لگی۔۔۔
نا چیز کے پاس رابطے کو فقط صبح و دوپہر کے ہی اوقات میسر تھے اور اپنی سی پوری کوشش جاری رکھی کہ کوئی گھڑی ایسی نہ بچے جس میں رابطہ نہ کیا ہو لیکن "قَدَّرَ اللِٰہُ وَ مَا شَاءَ فَعَلَ” ہاں البتہ شام و رات ساری ایسی مصروف گزرتی ہیں کہ پوچھئے ہی نا!
در اصل بقولِ قائل اب ہم بھی "کماؤ بھوت” ہو گئے ہیں اس کے باوجود شاید ہی دن کا کوئی حصہ ہو جو یادِ رفقاء سے خالی گزرتا ہو جس کو رفع کرنے کو ہم نے کئی ایک مصروفیات بڑھائی لیکن بقول ابنِ حزم:
وَ إنْ قِيلَ لِي تَتَسَلّٰى عَنْ "ذِكْرِيَّاتِهٖ”
فَمَا جَوَابٍي إلَّا الَّلامُ وَ الألِفُ
بس یہ تو دل کی باتیں تھیں جو دل میں ہی دبا کر رکھی تھیں کہ سلسلہ صحیحہ کی ایک حدیث نظر سے گزری کہ
"جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اللہ کے لئے محبت کرے تو اس سے اظہار کر دے کیونکہ یہ بات الفت پیدا کرنے میں بہترین اور محبت کو دوام بخشنے والی ہے”
میں نے خود کو ٹٹولا کہ میرا تعلق کس بنا پر ہے ؟ کوئی لالچ ٬ طمع ٬ حرص ؟ کوئی حوس ٬ بد نیتی ٬ بری نظر ؟ لیکن خود کو اس سے پاک پایا تو سوچا پھر یہ دوستی شاید اللہ کیلئے ہی ہے تو پھر کیوں اظہار میں ہچکچاہٹ و پس و پیش سے کام لیا جائے سو ٹھان لی کہ اظہار کریں گے اور دل کھول کر کریں گے۔
لیکن سوال وہی کہ آخر کیسے؟
رابطہ ہو تو پھر نا!
میں نے سوچا نہ ہی میرا قلم ٹوٹا ہے نہ ہی قرطاس پر کوئی آفت آئی ہے ٬ نہ ڈاک خانے بند ہوئے ہیں اور نہ ہی ایلچی و پیغام بر ختم ہوئے ہیں تو پھر کیوں دیر کی جائے۔۔۔۔
لیکن دل میں ایک بار پھر خیال آیا کہ "کیا عتابِ اظہار کو سہہ پاؤ گے” اور روح کانپ اٹھی کہ جانتا تھا
ساتھ آئے گا نہ کوئی کوچہء رسوائی تک
پھر وہ کچھ ہوا جس کی امید نہیں تھی اور شاید وہم و گمان بھی نہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ ہر طرف طوفان کی خبریں تھیں ٬ موسم میں وحشت زدہ گرمی تھی اور حبس کے مارے نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔۔۔کمرے میں ہر طرف اندھیرا تھا باہر ہر سو سناٹا تھا کبھی کبھار بادلوں کی اوٹ سے چاند جھانک کر دیکھتا تو کتنے ہی یادوں کے ماروں کو ان کی چاہت دکھا دیتا اس حالت میں کبھی نیند آتی اور کبھی پیاس رلاتی کہ میری آنکھ لگ گئی اور بے سکون نیند میں ایک خوابِ راحت و سکون نظر آیا۔۔۔۔جس نے طبعیت کو خیرہ کر دیا۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
خواب کیا تھا بس بقولِ شاعر:
فَرُؤيًا صَالِحًا صَادِقًا مَا زّرْتَ فِيهِ الصَّدِيْقُ
قَدْ كَانَ أبْعَدَ عَنْكَ وَ كُنْتَ مِنْهُ قَرِيـْبُ

یعنی ہم آواز کو ترس رہے تھے اور وقت ایسا آیا کہ دیدار نصیب ہو گیا گو کہ اشارہ تھا کہ جو کرنے کا ارادہ رکھتے ہو کر گزرو۔۔۔۔۔
سو ست بسم الله!
لیکن اب سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھوں کیا نہیں کہ باتیں بہت ہیں ٬ یادیں بے تحاشہ ہیں ٬ شکوے بکثرت ہیں اور شکریے لا تعداد ہیں لیکن اب زبان کہنے سے قاصر ٬ قلم لکھنے سے عاجز ہے گو کہ اب ایک قلمکار قاصر البیان اور قاصر اللسان ہو گیا ہے اور بس یہی کہتا ہے کہ:
سوچا تیری سادگی پہ لکھوں گا اک غزل
افسوس کہ تیرے معیار کا لفظ نہ مل سکا
آخری بات کیا کہوں مجھے نہیں پتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ "مجھے نہیں پتا اب میں آپ کا سامنا کیسے کر سکوں گا”
خدا کرے تیرے دامن پہ گرد غم نہ پڑے
تجھے نا دشت مصائب میں زندگی لائے

خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کی
تمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو
فقط:
عمر وسال میں بڑا ،علم و فہم میں چھوٹا ٬ عقل و عمل میں کھوٹا
ا ٬ ب ٬ ج

Author

1.5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

2 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
Aamir Anwar
Aamir Anwar
1 month ago

بہت عمدہ اور خوبصورت خط

ط ن خ ✍️
ط ن خ ✍️
1 month ago

گردشِ ماہ و سال کی ترجمانی کرتاایک عمدہ سا خط

Related Articles

Back to top button
2
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x