نظم

الوداع مہمان پرندو | اعجازالحق

الوداع مہمان پرندو

 

ہوا کے ہاتھ پر پیغِامِ رخصت لکھ دیا کس نے؟

شفق کی جھیل میں گرتے ہوئے ان سرخ لمحوں کو

جدائی کی تھکن کا نام کس نے دے دیا آخر؟

ابھی تو برف کی چادر ہٹی تھی ان پہاڑوں سے

ابھی تو دھوپ کی دستک سے جاگی تھی مری بستی

ابھی تو شاخِ عریاں پر ہری اک چلمنِ وحشت

نئے پتوں کی صورت میں ذرا سی مسکرائی تھی

تمہارے پَر سمیٹے جا رہے ہیں اب

ہوائے تند کے سرد و خنک جھونکے

تمہیں پھر دور کے دیسوں کی جانب کھینچ لے جائیں

مگر اے ہجر کے مارے ہوئے مہمان پرندو!

تمہارے لوٹ جانے سے

ہماری جھیل کے پانی میں اک چپ سی اتر آئے

ہماری شام کی تنہائی میں شورِ بال و پر نہیں ہوگا

جزیرہ خالی خالی سا، ادھورا سا لگے گا اب

مگر ہم جانتے ہیں

کوئی بھی رستہ صدا اک رخ نہیں رہتا

مسافر کو کسی اک موڑ پر تو مڑنا ہوتا ہے

چلو! خوشبو کے رستوں پر تمہارے ہم سفر ٹھہریں

جہاں بھی جاؤ، سورج تم کو اپنی اوٹ میں رکھے

جدھر جاؤ، ہری شاخیں تمہارا منتظر رہ کر

دعا کی چھاؤں سے رستہ تمہارا معتبر کر دیں

مگر جب برف پگھلے گی

نئی رت مسکرائے گی

پلٹ کر تم کو آنا ہے

ہمیں آواز دینی ہے!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x