تاجِ غربت
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں
ایک تھکا ہوا نصیب
بےخواب،
بےصدا
آنکھیں موندے پڑا ہے۔
میرے قدموں کے نیچے
پسی ہوئی دنیا کی مٹی ہے،
جو میرے جسم سے
یوں لپٹی رہتی ہے
جیسے قرض ہو۔
میرے سر پر
غربت کا ایک چمکتا ہوا تاج ہے،
جو دکھ سے تراشا گیا ہے،
اور جسے اتارنے والا
کوئی نہیں
Author
URL Copied




