نظم

تاجِ غربت | احمد علی شاہ مشالؔ

تاجِ غربت

 

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں

ایک تھکا ہوا نصیب

بےخواب،

بےصدا

آنکھیں موندے پڑا ہے۔

 

میرے قدموں کے نیچے

پسی ہوئی دنیا کی مٹی ہے،

جو میرے جسم سے

یوں لپٹی رہتی ہے

جیسے قرض ہو۔

 

میرے سر پر

غربت کا ایک چمکتا ہوا تاج ہے،

جو دکھ سے تراشا گیا ہے،

اور جسے اتارنے والا

کوئی نہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x