
مجھے احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ کب صبحِ کاذب پہ خاموشی سے دبے پاؤں صبحِ صادق کا رنگ چڑھنے لگا اور کب حیاتِ مستعار کا سالِ دیروز کا سورج اہنے آپ کو ایک دن میں سمیٹتے ہوۓ قلمِ مشیَت کی طرح امید و یاس، آس و نراش کی شعاعیں بکھیرنے لگا۔ حتیٰ کہ جنوری فروری کی دھوپ جیسی نرم ملائم شعاعیں مارچ بہار کی طرح پر امید اور زندگی سے بھرپور ہوتی ہوئیں اپریل کے آغاز کی طرح آنے والی گرم رتوں کے سندیس دینے لگیں۔ عمرِ عزیز نے ہلکے سے شکوے اور آنے والی جھلستی رتوں کے خوف کے ملے جلے احساس کے ساتھ آنکھوں میں سرخ و زرد رنگوں کو پھیلا کر میری طرف دیکھا کہ یہ کیا؛
اڑنے نہ پاۓ تھے کہ بے بال و پر ہوۓ
مجھے امروز کی تند و تیز آندھی میں بے سمت اڑتے ہوۓ خواب و خواہش کے تنکوں کو پہچاننے اور اس ہواۓ بے مہر کی سمت اور رفتار کو سمجھنے میں ذرا دیر لگی کہ اتنی دیر میں سب نرمی و ملائمت قصۂ ہارینہ بن چکی تھی اور ہلکے ہلکے شکوے تمازتِ آفتاب میں مئی اور جون کی دوپہر میں پگھلنے لگے اور عمرِ رواں کی حرارتِ غریزی معذرت خواہ ہونے لگی گویا میرے دل میں جولائی اور اگست کے مہینوں جیسی ڈھلتی دوپہر کا حبس بڑھنے لگا۔ بقول شاعر
شاید یہ وقت ہم سے کوئی چال چل گیا
حبسِ دل و نفسِ و حیاتِ مستعار ابھی ٹوٹنے نہ پایا تھا کہ سر پر پھیلتی ہوئی چاندی کے ساتھ ستمبرِ ستمگر اور بے مروت اکتوبر ڈھلتے سورج کی طرج پورے چہرے پر سونا بکھیرنے لگے مجھے تب یاد آیا کہ اللّٰہ نے کیوں زمانے کی قسم کھا کر والعصر فرمایا اور فرمایا کہ تم خسارے میں ہو۔۔۔ مجھے صبحِ امسال یاد آنے لگی جو کہ ابھی کچھ گھنٹے قبل کی بات لگتی تھی۔ خوابوں اور خواہشوں کے شکستہ آئینوں کی کرچیاں قدموں میں حزن و یاس اور عمرِ گم گشتہ کے احساسِ زیاں کے کانٹے بن کر چبھنے لگیں۔۔۔ مجھے ایک بچہ یاد آیا جو کہ مٹھی میں ریت پکڑے ہاتھ بلند کر کے اسے زمین پر گرتے ہوۓ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا حتیٰ کہ مٹھی سے تمام ریت پھسل گئی اور محض خاک کا نشان رہ گیا یہ بتانے کیلئے کہ کبھی یہ ننھی سی مٹھی بھری ہوئی تھی۔ اتنے میں نومبر آن پہنچا اور نامکمل خواہشات، ادھوری خوشیاں احساسِ وجود و عدم کے پیش آمدہ چیختے بین کرتے خدشات کی صورت میں ڈھلنے لگیں اور موجود کے روشنی کا آدھا وجود عدم کے اندھیرے کے بے چہرہ عفریت نے نگل لیا باقی آدھا مجھے الوداع کہتا ہوا غروب ہو گیا۔۔۔ کبھی واپس نہ لوٹنے کیلئے۔
اب دسمبر کی آخری رات آن پہنچی۔۔۔ ہر طرف اندھیرا، گہری خاموشی، ازلی تنہائی اور احساسِ سود و زیاں کے منکر نکیر خیالات میں عذابِ فردا کی آمد کی دہائیاں دینے لگے مجھے کرسٹوفر مارلو کا شاہکار ڈاکٹر فوسٹس یاد آنے لگا اور میں غالباً سو گیا جیسے کوئی عہد یادِ ماضی بن چکا ہو۔۔۔
میرے پیارے بچو! اب آنے والا سال تمہارا ہے۔ بقول شاعر ؛
جو ہو سکے تو دل کے چاک سی لینا
وگرنہ تم بھی ہماری طرح سے جی لینا
فقط؛ تمہارا عکسِ شکستہ




