
ایک خط اس ان کہی کے نام۔۔۔جو اس سال بھی ان کہی رہی۔
شام کے ساے اپنے طے شدہ وقت سے پہلے ہی گہرے ہونے لگے تھے۔ بالکل ایسے۔۔۔جیسے کسی معصوم کا بچپن ختم ہونے سے پہلے ہی بڑھاپے کی منزل آ جاے۔
یہ شام۔۔۔ہر گزری ہوئی شام ہی کی طرح تھی۔۔۔لیکن ہھر بھی اداسی کا رنگ بہت گہرا تھا۔۔۔دل بوجھل تھا۔۔۔
میں نے بھاپ اڑاتی چاہے کو دیکھا ۔۔۔سوچا کہ شائد اس کی حرارت جذبات پر جمی برف کو پگھلا دے۔
اسی خیال کے تحت چاہے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
چاہے نے منجمد سوچوں کو حرارت بخشی تو ہاتھ کاغذ اور قلم کی طرف بڑھا۔
سوچا جاتے ہوے سال کو رخصت کرنے سے پہلے کچھ حساب بے باک کر دوں۔
پہلا لفظ ہی آہ نکلا۔
لوگ کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔۔۔کیسے ایک سال گزر گیا کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔۔۔وقت پر لگا کر اڑ گیا۔۔۔۔
مجھے حیرت ہوتی ہے ۔۔۔اگر سب سچ کہتے ہیں تو میرا وقت کیوں نہیں گزرتا؟؟؟
میرے ماہ و سال کیوں رک گئے ہیں۔۔۔؟
میں نے شعور کی سیڑھی پر قدم رکھتے ساتھ ہی زندگی کی جن تلخیوں کا سامنا کیا تھا وہ میری ہم جولی بن کر آج بھی میرے ساتھ ساتھ ہیں۔۔۔کبھی لگتا ہے میں جہاں تھی ۔۔۔وہاں ہی کھڑی ہوں۔
وقت کی دستک پر جب بھی دروازہ کھولا ہے ہمیشہ پرانے روگ ہی نظر آے۔۔۔کبھی ہاتھ ملانے آے ، کبھی گلے لگانے آے اور کبھی مہمان بن کر آے اور پھر گئے ہی نہیں۔ ۔۔
لوگوں کا وقت کیسے گزر جاتا ہے؟
لوگ سال کی بات کرتے ہیں۔۔۔
میرے لئے تو یہ دسمبر ہی گزارنا بہت مشکل تھا۔۔۔اور آج تیس دسمبر کا دن۔۔۔
مت پوچھ اے زندگی۔۔۔یہ کیسے گزر رہا ہے۔
آج ذہن کے بند کواڑ کھولے تو یادوں کی دھول ایک مدھم سی چیخ کے ساتھ یوں اڑی۔۔۔جیسے صدیوں سے اڑنے کے لئے بے قرار تھی۔
اور پہلی یاد ۔۔۔پتا کیا تھی؟؟؟
لوگوں کا بدل جانا۔۔۔ ان لوگوں کا جن کے دکھ میں نے یوں محسوس کئے تھے کہ آہ وہ کرتے۔۔۔آنسو میرے نکلتے۔۔۔
ان لوگوں کا بدل جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے جنہوں نے آپ کو احساس دلایا ہو کہ وہ آپ کے اپنے ہیں۔۔۔
آپ نے ان کے ساتھ مل کر بہت قہقہے لگاے ہوں۔۔۔ان کے ساتھ مل کر غم کو چٹکیوں میں اڑایا ہو۔۔۔
ایک ایک لمحہ کو بھرپور جیا ہو۔۔۔
اور اپنا آپ اہم سمجھا ہو۔۔۔۔
کیسے وہ لوگ ۔۔۔ہمارے اہم ہونے کو ہمارا وہم ثابت کر دیتے ہیں۔
یاد کا ایک در اور وا ہوا۔۔۔
اس سال میں نے جدو جہد زندگی کو ایک نئ جہت سے روشناس کروایا۔۔۔
میں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش چھوڑ دی۔
زندگی سے کہا اب مجھے سمجھ۔۔۔
اب زندگی مجھے سمجھنے میں ہلکان ہو رہی ہے۔
سوچ رہی ہوں یہ بدلاو کیسے آیا؟
شائد یہ بجھتے ہوے چراغ کی آخری لو ہے جو بجھنے سے پہلے زیادہ جل رہئ ہے۔
اگر مجھے ان گزرے ہوے ماہ و سال کے نام ایک خط لکھنے کا موقع ملے تو میں پتا کیا لکھوں گی۔۔۔۔۔
میں قہقہے لکھوں گی ۔۔وہ سارے قہقہے جو زندگی میری بے بسی ہر لگاتی رہئ۔۔۔
وہ سارے قہقہے جو میرے لبوں سے آزاد ہونے سے پہلے ہئ اندر کی گھٹن میں دب گئے۔
میں وہ سارے قہقہے اس صفحہ پر انڈیل دوں گی۔۔۔اس خط کی نذر کر دوں گی۔۔۔۔
کہ پڑھنے والا جب بھی پڑھے گا تو جان لے گا کہ زندگی جن پر ہنستی رہی ہو ان کا زندگی پر ہنسنا کیسا ہوتا ہے؟۔۔
میرا خط۔۔۔اس سال کے ان لمحوں کے نام جب مجھ پر آشکار ہوا کہ خلوص، محبت، وفا اور احساس صرف الفاظ ہیں۔۔۔ان کا انسانی زندگی میں کہیں کوئی وجود نہیں۔۔۔تب پہلی مسکراہٹ میں نے پاس کھڑی طنز بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتی ہوئی زندگی کی طرف اچھالی تھی۔۔۔وہ سہم گئ تھی ۔۔۔کہ۔۔۔یہ اس کا کون سا روپ ہے؟ کیا اب یہ مجھ پر ہنسے گی؟
تب سے میں زندگی پر ہنس رہی ہوں۔
اے تیس دسمبر کی شام کی آخری ساعتو!
یاد رکھنا۔۔۔میں نے اس سال زندگی سے لڑ کر جینے کا عہد کیا ہے۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔




