اُردو ادبنثر پارہ

ہمدم دیرینہ / زرقا فاطمہ، لاہور

گزشتہ سال کے نام ایک مراسلہ
کتنا پرانا ساتھ ہے ناں اپنا۔جب سے ہوش سنبھالا ساتھ ہی رہے۔ تیرا آخری مہینہ دسمبر سدا سے ایک جیسا ہے ۔مگر میرے روپ میں کئ تبدیلیاں آئیں ـ اس کے رنگ وہ ہی کبھی سرمئ دھند کبھی پٹ سن کے خوشوں جیسی چمکتی دھوپ -تیرے ا خری مہینے کے رنگ اس بار بھی ویسے ہی رہےـ,اس نے اس دفعہ میرے ملک کے باسیوں کو اپنی سنہری دھوپ زیادہ دی -شکریہ کہ میرے دیس میں بستے کچھ لوگ جو آتش دان کے قریب نہ بیٹھ سکے اس کی مہربان کرنوں کے ساۓ میں رہے ـمگر آخری دن اس سے نیر نہ سنبھالے گےـاور زرد پتے خزاں کی بارش میں بھیگتے رہے ـاب خط لکھنے کا رواج نہیں رہا ـورنہ کوئی اس فکر میں گھلتا اور بار بار جا کر لیٹر بکس چیک کرتا کہ کہیں وہ خط نہ آیا ہو جو کبھی لکھا ہی نہیں گیا ـ۔یہ فکر پریشان کرتی کہ اگر وہ بھیگ گیا توـ…….. لفظ پھیل گے تو! کاغذ بھی کہیں میری آنکھوں جیسا گیلا نہ ہو جائے ـپھر جونہ پڑھا جا سکا دنوں کی تشنگی دے جاۓ گا ـ, تیرے اس آخری ماہ میں برسنے والی بارش تو رک گئـی مگرکھڑکی کے شیشے پہ کچھ قطرے اٹک گۓ ـبالکل ایسے جیسے زندگی کے کچھ پل دل میں کہیں رک جاتے ہیں ـ جیسے کچھ پھول کتاب میں رکھ کر محفوظ کر لیے جاتے ہیں ـ
اب شامیں مختصر ہیں ـ لیمپ کی روشنی میں کتابیں پڑھنے والوں کے لئے ڈھیر وقت ہو گا ـ
اور تو دیکھتا آیا ہے ـ ستم روائی پہ حیران آنکھیں کتابوں میں  پناہ  ڈھونڈتی ہیں ـ چلو اچھا ہے  بدلے لینے سے اور زخم ملتے ہیں ـ
گزرے سال کی گرہ میں بندھی اداسیوں کو خزاں کی بارش نے دھونے کی کوشش تو کی ہے  ـ مگر دھو نہیں پائی ـ
اے رخصت ہوتے دوست تجھے علم ہے ناں ـ ابھی بہار کے آنے میں کچھ دن پڑے ہیں ۔شکریہ ان لمحوں کا جو دینے والے  تھے ۔
احسان ان پلوں کا جو بہت کچھ سکھا گۓ ـ
الوداع اے جانے والے سال
اب مجھے آنے والے سال کو خوش آمدید کہنا ہے

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x