افسانہ : ابا کا صندوق/ تبصرہ: منیر احمد فردوس

••• ایک گمشدہ منظر، سماجی انٹروپی اور ناصر عباس نیئر کا افسانہ ابا کا صندوق •••
میں اپنا ایک منظر گم کر بیٹھا ہوں، جو کبھی میرے شہر کی تنگ سی گلیوں میں اترا کرتا تھا…جسے میں نے برسوں جیا، اور اپنے بچپن کی سحر انگیز یادوں کو اسی میں ہی محفوظ کیا کرتا تھا۔
وہ محض ایک منظر نہیں بلکہ پوری معاشرت تھا، ایک بھرپور زندگی نامہ…یعنی ایک ایسا دھڑکتا ہوا منظر جو ماں کی دعا کی طرح شہر کے باسیوں کو اپنے اپنے حصے کی زندگی دینے شہر کی گلیوں میں روزانہ اتر آتا تھا۔ نہ جانے وہ کب اور کیسے مجھ سے گم ہوا یا شاید وقت نے چپکے سے چھین لیا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے بچے کی مٹھی میں دبی کوئی قیمتی شے چھین لی جائے۔
مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ کھوئے ہوئے لوگوں کی طرح گمشدہ منظر بھی واپس مل جاتے ہیں؟ جی ہاں…میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ حیرت انگیز طور پر میرے شہر سے گم ہو جانے والا منظر مجھے دوبارہ مل گیا…مگر کہیں اور، بہت دور، کسی اور کے پاس…لفظوں کے ایک جادوگر کے ہاں…جی ہاں…پورے پینتیس چالیس برسوں بعد اس منظر نے دوبارہ میرے اندر جھانکا…ناصر عباس نیئر صاحب کی بدولت…جیسے گھپ اندھیرے میں اچانک کہیں روشنی لپک جائے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میرا یہ گمشدہ منظر اُن کے ایک بند پڑے صندوق کے اندر سے برآمد ہوا، جو جانے کب سے وہاں قید کاٹ رہا تھا۔
ہے نا اچنبھے کی بات؟ مگر ٹھہریئے …
پہلے آپ کو اس منظر میں اتر کر اسے جینا ہو گا، تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ناصر صاحب نے آخر کس اثاثے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے… تو آئیے اس گمشدہ منظر میں اترتے ہیں:
یہ میرے شہر کے فرنگی دور کی تاریخی عمارت چوگلہ کا ایک قریبی محلہ ہے…تنگ سا، چھوٹے چھوٹے گلی کوچوں میں بٹا ہوا، غریبی میں لپٹا مگر خوبصورتیوں سے سجا اور زندگی کی آب و تاب سے دھڑکتا ہوا ایک بھرپور محلہ۔ سادگی کے حسن سے چمکتی آنکھوں والے کِھلے کِھلے چہرے، بے فکری میں لپٹے، محبت سے گندھے آتے جاتے سادہ لوح محلے کے لوگ، اکا دکا سائیکل سوار۔ چاروں طرف امن و سکون کی سنہری دھوپ پھیلی ہے اور ہر چہرہ زندگی کی تازگی سے تمتما رہا ہے۔ علاقے کی مشہور دکان غلبی اچار شاپ کے مٹکوں سے اٹھتی چٹ پٹے اچار کی اشتہا انگیز خوشبو فضاؤں میں پھیلی ہے۔ آس پاس کے چھوٹے دکاندار عباسو کھیری، ڈتہ کریانہ، حکیم صفتو شاہ، کالو قصائی اور کئی دیگر لوگ دکانیں کھول کے بیٹھے ہیں۔ چند ہاتھ دور گَڈ گَڈ آئسکریم کی چھوٹی سی دکان پر بھیڑ لگی ہے اور "گَڈ گَڈ پہلوان” آئسکریم سے بھرا قُلف آگے رکھے گاہکوں کو نمٹا رہا ہے۔ ساتھ والے کوچے کی نکڑ پر شہتیروں والی کچی دکان کے اندر اس کا بڑا بیٹا یونس دودھ کا بڑا سا کڑاھا کچے چولہے پر چڑھائے اس میں پھینٹا لگا رہا ہے۔ نانا قریش کی ٹافیوں کی دکان پر بچے ہاتھوں میں چونی اٹھنی دبائے نانا قریش کو خوب تنگ کر رہے ہیں اور ان سے مزے مزے کی چیزیں لے رہے ہیں۔ سامنے والے تھڑے پر میں اور میرا محلے کا واحد دوست اصغر خوش گپیوں میں مصروف بیٹھے ہیں۔ گلی میں کئی لوگ آ جا رہے ہیں۔ یہ ہمارا مستقل ٹھکانہ ہے، ہم روزانہ اسی جگہ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتے اور ہر آنے جانے والے کو تکتے رہتے ہیں۔
شہر کی سڑکیں چھانتی میلی کچیلی بکھرے بالوں والی ہوش و خرد سے بیگانہ گل بی بی عرف گُلی کملی وہاں سے گزرتی ہے، حسبِ معمول وہ اپنے کپڑے اتار کر غلبی اچار شاپ کے سامنے والے نالے میں پھینک دیتی ہے اور بڑبڑاتی ہوئی ننگ دھڑنگ وہاں سے چل پڑتی ہے۔ یہ سب کے لیے ایک معمول کا واقعہ ہے، اس لیے کوئی گُلی کملی پر حیران نہیں ہوتا بلکہ شرم و حیا سے بھری ہوئی کئی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ قیوما بھج بھج کلائی پر تین چار گھڑیاں باندھے، ہاتھ میں ٹیپ ریکارڈر پکڑے ساتھ والے کوچے سے نکلتا ہے اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا مسلم بازار کی طرف چل پڑتا ہے۔ گھڑیاں، ٹیپ ریکارڈر اور ریڈیو بیچنا اس کا چلتا پھرتا کاروبار ہے۔ اسے گئے ہوئے کچھ ہی دیر گزرتی ہے کہ گلی "اج حق والے حق پایا ہے” کی صداؤں سے گونج اٹھتی ہے، دور سے مردوں کی ایک ٹولی آتی دکھائی دیتی ہے جو گلاب اور موتیے کے ہار پہنے گھر گھر چکر کاٹ رہی ہے، لوگ ایک دوسرے پر پانی ڈال رہے ہیں، عورتیں چھتوں سے پانی اور موٹے موٹے میٹھے سبز کچور بیر پھینک رہی ہیں۔ نوروز کے خوشنما سماں میں سب چہرے کھلکھلا رہے ہیں۔ اسی دوران محلے کا مجذوب شخص اللہ ڈتہ عرف ڈتا ملنگ ٹخنوں تک ملیشیا کی لمبی قمیص پہنے ننگے پاؤں دور سے آتا دکھائی دیتا ہے، جو "دے خسیا” (دے سخیا) کی آواز لگاتا راہگیروں اور دکانداروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا اور ان کی طرف مسکان اچھالتا آگے بڑھ جاتا ہے۔ مسلم بازار والے رخ سے شہر کا جیمز بانڈ اختر طوفان کالی قمیص سرخ شلوار پہنے، لمبی مونچھوں اور لمبے بالوں والی مخصوص وگ لگائے، سیاہ چشمہ آنکھوں پر چڑھائے سائیکل کے پیڈل مارتا ہوا آ رہا ہے، سائیکل پر تختی لگی ہے جس پر بڑا بڑا "اختر دی گریٹ” لکھا ہے۔ گلی میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور کئی لوگ وہاں سے گزرتے رہتے ہیں… یہ بے فکری کا پرکیف زمانہ ہے… ہر سو غریبی اور تنگدستی ہے مگر دل کشادگی سے دھڑک رہے ہیں اور آنکھیں حیا سے چمک رہی ہیں… محبت، یگانگت، شرم و حیا، مذہبی رواداری، رکھ رکھاؤ اور باہمی عزت کی فراوانی ہے۔ محلے کا ہر باشندہ سکھی ہے اور زندگی کے حقیقی مزے لوٹ رہا ہے۔ میں اپنے دوست اصغر کے ساتھ تھڑے پر بیٹھا اس دھڑکتے ہوئے زندگی نامے کو پوری طرح سے جی رہا ہوں اور روح میں زندگی کی تسکین اتار رہا ہوں۔
اچانک ہم دونوں کے کھلتے ہوئے چہرے سنجیدگی سے اٹ جاتے ہیں، ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے اور ہم خاموشی میں جکڑے جاتے ہیں۔ محلے کی فضا بدلنے لگتی ہے، ہر چہرہ پریشان دکھائی دینے لگتا ہے۔ آسمان پر خوفناک سرخی پھیل جاتی ہے اور شہر کے گلی کوچوں میں تناؤ کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔ تبھی عجیب سے لہجے میں لتھڑا ہوا ایک اجنبی جملہ میرے کانوں کی دہلیز میں آ گرتا ہے۔
"اگر شہر کے حالات مزید خراب ہو گئے اور تمہیں گن اٹھانی پڑے تو کیا تم اٹھاؤ گے؟” یہ سوال کسی خنجر کی طرح میری سماعتوں میں اترتا ہے اور مجھے چیر کے رکھ دیتا ہے۔ میں اس آواز کا پیچھا کرتا ہوں تو سامنے اصغر کو دیکھ کے دنگ رہ جاتا ہوں۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی، وحشت اور اجنبیت چھائی ہے۔
"نہیں یار… میں ایسا کیوں کروں گا؟ میں پاگل ہوں کیا؟” میں اسے جواب دیتا ہوں۔
"اور تم…؟ کیا تم گن اٹھاؤ گے؟” میں وہی سوال اصغر کی طرف اچھال دیتا ہوں۔
"ہاں… ضرورت پڑی تو میں گن اٹھاؤں گا۔”
اصغر کا جواب مجھے سکتے کی طرف دھکیل دیتا ہے اور میرے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ یہ میری زندگی کا پہلا خوف تھا جو میں نے اپنے محلے میں اپنے دوست سے کمایا تھا۔ میری حیرت زدہ نظریں اصغر کے اجنبی چہرے پر گڑی ہیں، اور میں اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سامنے کون بیٹھا ہے؟ میرا دوست اصغر یا کوئی اجنبی چہرہ؟
میں تھڑے پر حیرت زدہ بیٹھا رہ جاتا ہوں اور سماجی انٹروپی پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ گلی کوچے گولیوں کی تڑ تڑ سے گونج اٹھتے ہیں۔ محبت بھرا شہر مورچوں میں بدل جاتا ہے۔ گھر کی چھتوں، چوکوں، بیٹھکوں، دکانوں یہاں تک کہ مسجدوں میں بھی مورچے بن جاتے ہیں۔ چنگھاڑتی ہوئی گولیاں سروں کے اوپر سے گردش کر رہی ہیں اور خوف جگہ جگہ چھاپے مار رہا ہے۔ اسی افراتفری میں ڈتا ملنگ "دے خسیا” کی آوازیں لگاتا ہر چیز سے بے نیاز اپنی ہی لہر میں گلیوں میں گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اچانک کہیں سے ایک سنسناتی ہوئی گولی آتی ہے اور اس کی کھوپڑی کے پار ہو جاتی ہے، "دے خسیا” کی آواز خاموشی پہنے میرے سامنے خون میں لت پت پڑی ہے۔ آگ اگلتی گولیاں شہر بھر میں سر ڈھونڈتی پھر رہی ہیں اور میں وحشت زدہ تھڑے پر بیٹھا ہوں۔ ان میں سے ایک گولی سائیکل پر سوار شہر کے جیمز بانڈ اختر طوفان کو بھی ڈھونڈ نکالتی ہے، اور وہ سائیکل سے اوندھے منہ گرا پڑا ہے، اس کی کالی قمیص تیزی سے لال ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کے دو معصوم لوگوں کی لاشیں میرے سامنے گلی کے فرش پر پڑی ہیں اور میں تھڑے پر بے یقینی میں جکڑا گم صم بیٹھا ہوں، دکانیں بند ہیں، نانا قریش، گَڈگَڈ پہلوان، حکیم صفتو شاہ، غلبی اچار والے… سب غائب ہیں۔ میں گردن پھیر کے اپنے دائیں طرف دیکھتا ہوں، میرا دوست اصغر وہاں نہیں ہے، اس کی جگہ خالی ہے اور پھر وہ کبھی لوٹ کر اپنی جگہ پر نہیں آیا۔
سماجی انٹروپی میرے شہر کو کھا چکی ہے اور میں آنکھوں میں اس کا دکھ لیے تھڑے پر تنہا بیٹھا اپنے اسی دھڑکتے ہوئے منظر کو ڈھونڈ رہا ہوں جو میرے سامنے ہی شہر کی گلیوں سے گم ہوا تھا، اور جس کا میں چشم دید گواہ رہا ہوں…مگر برسوں بعد حیرت انگیز طور پر وہ منظر آج میں نے پا لیا ہے…جی ہاں…وہی منظر ناصر عباس نیئر کے افسانے "ابا کا صندوق” میں دیگر سامان کے ساتھ پڑا ہوا مجھے ملا ہے۔ یہ میرا دیکھا بھالا اور میرا جیا ہوا وہی منظر ہے جس میں اترتے ہی میں اس سے باہر نہیں نکل سکا۔ وہی معاشرت، وہی سماج، وہی شب و روز، وہی زندگی اور وہی سیدھے سادے لوگ اسی افسانے میں موجود ہیں جو کبھی میرے شہر کے سماجی منظر نامے میں دل بن کر دھڑکا کرتے تھے۔
آپ یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ناصر عباس نیئر صاحب کا افسانہ "ابا کا صندوق” بھی اپنے متن میں ویسا ہی منظر رکھتا ہو گا جیسا میں کھو چکا ہوں مگر ایسا کچھ نہیں ہے…ناصر صاحب کے افسانے کا لوکیل الگ ہے، کردار الگ ہیں، وہاں ان کے ابا ہیں، بے بے جی ہیں، ڈاکٹر سلیم ہیں، بخشو ہیں، شہزاد ہیں…البتہ ان سب کرداروں کا "جمالیاتی ڈی این اے” وہی ہے جو میرے شہر کے ان مٹ کرداروں کا تھا۔
یہ مماثلت محض اتفاقیہ نہیں بلکہ اس "جمالیاتی شعور” کی دین ہے جو ناصر صاحب کی سطر سطر میں سانس لے رہا ہے۔ انہوں نے جس سماجی خوبصورتی اور اخلاقی رکھ رکھاؤ کی خوشبو سے افسانے کے متن کو مہکایا ہے، وہ دراصل میرے سماجی منظر نامے کی اسی گمشدہ تہذیب کی بازیافت ہے جسے سماجی انٹروپی کھا چکی ہے۔ میرے شہر کا وہ محلہ اور ناصر صاحب کے افسانے کا سماجی منظر نامہ بظاہر دو الگ الگ جغرافیائی حقیقتیں ہو سکتی ہیں، مگر درحقیقت دونوں میں سماجی نظام کی علامتیں ایک ہی تہذیبی ڈھانچے کی نشاندھی کرتی ہیں۔ ناصر صاحب نے افسانے میں جن کوڈز کا استعمال کیا ہے، وہ آفاقی ہیں۔ اس لیے ان کا افسانہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنی گلی کی بودوباش، اپنے محلے کی آوازیں، اپنے کردار اور اپنا گمشده تہذیبی منظر ہو بہو وہاں موجود ملتا ہے۔ یہ متن کی وہ ساخت ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر قاری کے ذاتی تجربے سے جڑ جاتی ہے۔
"ابا کا صندوق” افسانے میں ناصر عباس نیئر کے اسلوب کی خاص بات ان کی زبان کا وہ حسن ہے جس کے بطن میں زندگی کے فطری فلسفے کی گہرائی جگہ جگہ ملتی ہے۔ ان کا بیانیہ کسی پرانے حکیم کے نسخے کی مانند ہے، جو دھیمے لہجے میں روح کے امراض کی تشخیص کرتا ہے۔ وہ بڑے سے بڑے سماجی حادثے کو بھی ایک ایسی علمی متانت اور فکری سوجھ بوجھ کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ قاری کو اپنی ذات کا بکھراؤ بھی ایک آفاقی المیہ لگنے لگتا ہے۔
"ابا کا صندوق” پڑھنا دراصل میرے لیے ایک ایسا روحانی، جمالیاتی اور فکری تجربہ رہا ہے کہ میں خواہشِ عبث کرنے لگا کہ کاش یہ طویل افسانے کی بجائے ایک ناول ہوتا تو اس کے متن سے جانے کیا کچھ برآمد ہو سکتا تھا۔ افسانے کا اصل اسرار "صندوق” کے متحرک استعارے میں ہی پوشیدہ ہے، جو محض لکڑی کا ایک بند ڈبہ نہیں بلکہ ہماری معدوم تہذیبی یادداشت کی مکمل گواہی ہے۔ ناصر عباس نیئر جیسے صاحبِ فہم نقاد و افسانہ نگار بخوبی جانتے ہیں کہ جب سماج کی اخلاقی بنیادوں کو انٹروپی کھا جائے، تو ہمیں ان پرانی چیزوں کی طرف لوٹنا پڑتا ہے جو بظاہر پرانی کرنسی کی طرح متروک ہو چکی ہیں مگر ان ہی کے اندر ہمارا "سماجی ڈی این اے” موجود ہوتا ہے۔
ناصر صاحب دراصل سماجی انٹروپی کے عمل کے مقابلے میں سماجی شعور کی دریافت کا ایک ایسا عمل سامنے رکھنا چاہتے ہیں جن کا وہ خود گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے سماجی انٹروپک اثرات ان کے اپنے افسانے میں بھی پائے جاتے ہے، یعنی ان کے ہاں بھی مسجدوں میں خدا پر حملہ کیا جاتا ہے، امام بارگاہوں میں آنسوؤں کو آگ میں جھونکا جاتا ہے جبکہ یہی کچھ مجھے اپنے سماجی منظر نامے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ناصر صاحب صندوق کے فکری استعارے کے ذریعے سماجی و جمالیاتی شعور کا احساس بھی دلاتے ہیں کہ وہ سماج، جس میں گلی کملی ننگ دھڑنگ پھرتی تھی مگر محفوظ تھی، اور وہ سماج جہاں ڈتا ملنگ کی مسکراہٹ کسی بھی گولی سے زیادہ طاقتور تھی… ایسا سماج دراصل ایک اعلیٰ جمالیاتی و اخلاقی منشور رکھتا تھا جس سے اختر طوفان جیسا بے ضرر شخص بھی پوری طرح سے جڑا ہوا تھا۔
ناصر عباس نیئر نے اپنے افسانے میں سماجی انٹروپی کے ردعمل میں پیدا ہونے والا لامحدود سماجی، ذہنی و فکری خلا نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ کئی جگہوں پر اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ شاید وہ بھی میری طرح اپنے شہر کے پرانے منظر نامے کے کھو جانے پر دکھی ہیں، اس لیے میرے ہی دکھ کو اپنی زبان دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
” فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے وہ سوچے چلا جا رہا تھا۔ دس سال پہلے کی کوئی نشانی؟ اس نے جیسے پورے شہر سے یہ سوال پوچھا۔ چند قدم چلا تھا کہ اسے سوال کا جواب مل گیا۔ اسے کچھ عمارتیں نظر آئیں، اس کی روح میں جیسے روشنی کا ایک جھماکا ہوا ہو۔ یہی چند ایک پرانی عمارتیں ہیں جو مجھے یاد دلاتی ہیں کہ ہاں یہ وہی شہر ہے۔”
افسانے میں صندوق کو ایک کردار کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جو اپنے متحرک علامتی سانچے میں کئی شکلیں بدلتا ہے بلکہ ساختیات کی نظریاتی گہرائی میں "صندوق” بذاتِ خود ساختیات کا ایک مکمل نمونہ دکھائی دیتا ہے جس نے ایک خاص عہد کی جمالیات، اخلاقیات اور سماجی سچائی کو کسی خزانے کی طرح اپنے اندر چھپا رکھا ہے۔ مگر صندوق کی کایا تب پلٹتی ہے جب اس کے اندر سے آئینہ برآمد ہوتا ہے، اور کہانی ایک دم سے ساختیات کی قید سے نکل کر پسِ ساختیات کی وسعتوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ جہاں کوئی بھی حقیقت حتمی یا جامد نہیں رہتی، بلکہ وہ دیکھنے والے کی نظر اور تناظر کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ صندوق سے برآمد شدہ آئینہ بھی اسی عدم استحکام بلکہ تخلیقی آزادی کا مظہر ہے کہ اس سے کوئی بھی مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ افسانے کا مرکزی کردار آئینے میں جھانکتے ہی ڈر جاتا ہے اور اسے فوراً صندوق میں واپس رکھ دیتا ہے، مگر وہاں میرے لیے آئینہ کسی اور مفہوم میں ڈھل جاتا ہے، مجھے اس میں اپنا وہ گمشدہ منظر، گلی کملی، ڈتا ملنگ، گَڈ گَڈ پہلوان، گلیوں میں سائیکل دوڑاتا اختر طوفان اور ان جیسے کتنے ہی سچے کھرے کردار دکھائی دینے لگتے ہیں۔
یعنی پسِ ساختیاتی چلن میں آئینہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ محض ایک فرد کی یادداشت نہیں، بلکہ ایک ایسا آفاقی عمل ہے جس میں ہر دور کا قاری نہ صرف جمالیاتی و اخلاقی قدرومنزلت کا ادراک کر سکتا ہے بلکہ اپنے عہد کی سماجی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی شکست و ریخت کا عکس بھی دیکھ سکتا ہے۔
ناصر عباس کا نیئر کا افسانہ "ابا کا صندوق” میرے لیے محض ایک کہانی نہیں، بلکہ لمحہّ موجود کا ادراکی چلن اور مستقبل کی سماجی تفہیم کا ایک روشن وسیلہ ہے۔ ناصر صاحب نے اس افسانے کے ذریعے ہمیں یہ بتانے کی عمدہ کوشش کی ہے کہ سماجی انٹروپی جہاں جمالیاتی شعور اور اخلاقی قدروں میں بے ترتیبی بھر دیتی ہے، وہاں تخلیقی جوہر اس بے ترتیب ملبے سے معاشرے کی ایک نئی ساخت اور ایک نیا سماجی ڈھانچہ بھی برآمد کر لیتا ہے۔ ان کا یہ دلکش تخلیقی جملہ میرے اندر اب بھی گونج رہا ہے:
"یہاں ایک زمیندار کا دماغ چل جائے تو اس کی زمینوں پر دوسروں کے ہل چلنے لگتے ہیں۔”
سچ تو یہ ہے کہ "فرشتہ نہیں آیا” کتاب میں شامل افسانہ "ابا کا صندوق” کی صورت میں ناصر عباس نیئر صاحب نے مجھ جیسے قاری کے ساتھ ساتھ ہر اس قاری کے ہاتھ میں ایک چراغ تھما دیا ہے جو برسوں سے تھڑے پر بیٹھا انٹروپک اندھیروں میں اپنا گمشدہ منظر تلاش کر رہا ہے۔




