نظم
محبت زندگی میں مستقل ہے / عائزہ علی خان
محبت زندگی میں مستقل ہے
آئینے سے کہنا
ہر عکس سچا ہو ایسا ضروری نہیں
کبھی آنکھیں شبیہہ بناتی ہیں
فطرت کے قوانین کے خلاف
جب دل محبت میں مبتلا ہو جائے
تو ریٹِینا بھی دھوکہ دے سکتا ہے
(مجھے تمہاری صورت چہار سو دکھائی دیتی ہے)
وقت کے پیمانوں سے کہنا
عالمِ تنویم میں
ایک طویل ، تھکا دینے والا سفر
بیداری کے فقط سات منٹ پر مشتمل تھا
جاگنے کے باوجود بھی
مجھے اپنے اندر
بڑھاپے کی تمام علامات محسوس ہوتی ہیں
(خوابوں کی رسّی کا سِرا میرے ہاتھ سے چھوٹ چکا)
پیار کے دعویداروں سے کہنا
تمہارا طبعی میلان
عالمِ دنیا میں ورود سے پہلے
ہو چکی ادھوری ملاقات کا ثمر ہے
اس لیے تم چاہ کر بھی محبت نامی عفریت سے
جان نہیں چھڑا سکتے
(میں تمہاری زندگی میں مستقل ہوں)




