
ٹیلر ماسٹر اشرف عرف شرفو بھائی سے میری ملاقات ایک چائے خانے میں ہوئی تھی۔ اکتوبر کا مہینہ تھا ۔ دن گرم اور راتیں فرحت بخش ہوتی جا رہی تھیں۔ شادی کے بیس سال گزرنے کے بعد بھی عائلہ مجھے پہلے دن کی طرح محبوب تھی۔ اس نے مجھے اس طرح اپنا اسیر بنائے رکھا تھا کہ مجھے اس کی لت ہی لگ چکی تھی۔ اس کا مجھے سونپنے کا عمل اس قدر دلربا ہوتا کہ میں اس کے سحر سے نکل ہی نہ پاتا ۔
شرفو بھائی ایک دلچسپ کردار تھے۔ یہ چائے پیتے ہوئے جب چائے کو حلق میں انڈیلتے تو غیر معمولی آواز نکالتے۔ چائے کی ابتدائی چسکیاں لیتے وقت تو یہ آواز اس قدر اونچی ہوتی کہ دائیں بائیں بیٹھے لوگ ایک مرتبہ ضرور ان کی طرف متوجہ ہوتے۔ اس وقت وہ چائے پیتے ہوئے جس طرح اپنی آنکھوں کو دائیں ، بائیں گھماتے ہوئے لوگوں کو دیکھتے تو بے اختیار ہنسی نکل جاتی۔
نجانے اس کی شخصیت میں ایسا کیا تھا کہ ایک ہی نشست میں اجنبیت کے پردے اتر گئے ۔ صرف دو تین ملاقاتوں میں برسوں کی شناسائی محسوس ہونے لگی ۔ میں ان دنوں ایک مشکل فیز سے گزر رہا تھا۔ ازدواجی زندگی کے لطیف احساس اور بعد ازاں بچوں کی پیدائش اور ان کی ذمہ داریوں نے دوست احباب سے اتنا دور کر دیا تھا کہ سوشل لائف تقریباً ختم ہی ہوچکی تھی۔
دو بیٹے تھے جو اب کالج جایا کرتے تھے۔ ان کو بڑا آدمی بنتے دیکھنے کی آرزو نے کمانے اور خرچ کرنے میں مشغول رکھا۔ عائلہ نے گھر کا انتظام و انصرام اچھے سے سنبھال رکھا تھا ۔ پھر وہ ہوا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایک رات عائلہ ہڑ بڑا کا اٹھ بیٹھی ۔ اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
میں نے اسے سنبھالتے ہوئے حوصلہ دیا۔ مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس نے کوئی خوفناک خواب دیکھا ہے۔ بیڈ کے ساتھ منسلک سائیڈ ٹیبل پر جگ گلاس رکھا رہتا تھا۔ میں نے جلدی سے اسے پانی پلایا۔ آہستہ آہستہ وہ خواب کے اثر سے نکل آئی تو میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اس نے خود کو کفن میں لپٹے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور سمجھایا کہ خود کو مرا ہوا دیکھنے کی تعبیر عموماً یہی کی جاتی ہے کہ آپ کی زندگی طویل ہے۔
بات بظاہر ختم ہو گئی۔ اور مجھے لگا کہ وہ نارمل ہو گئی ہے۔ لیکن اس دن کے بعد سے عائلہ جو ایک ماڈرن لائف اسٹائل جی رہی تھی اس نے آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کرنا شروع کردیا۔ اس نے سوشل میڈیا پر مذہبی چینلز کو فالو کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے سر پر دوپٹہ اوڑھنا معمول بنا لیا ۔ بھنویں بنانا چھوڑ دیں۔ گھر سے باہر نکلتے وقت وہ مکمل نقاب کرنے لگی۔
بات یہاں تک محدود رہتی تو بھی میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ عائلہ قدرتی طور پر حسین عورت تھی جسے میک اپ ، لپ اسٹک کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ لیکن جب اس نے ازدواجی تعلق میں سنی ہوئی مذہبی روکیں لگانا شروع کی تو میری زندگی اجیرن ہی ہوگئی۔ اس کی سپردگی میں حجاب حائل ہونے لگا ۔ گھپ اندھیرا ، ستر اور نجانے کتنی ایسی باتیں جن پر وہ مجھے عمل کرنے پر مجبور کرنے لگی۔
بےباکی کی جگہ خودساختہ اختیار کردہ حدود و قیود نے لے لی۔ مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے میں ریپ کر رہا ہوں۔ پھر فورآ غسل جنابت کرنا ۔ تاخیر کی صورت میں اس کا ماننا تھا کہ رحمت کے فرشتے چلے جاتے ہیں۔ شیطان آپ کے جسم میں سرایت کر جاتا یے۔ پیاسے کو گلاس بھر کر پانی ملنے کے بجائے قطرہ قطرہ ملے تو اس کا تشنہ رہ جانا فطری تھا ۔ جسم تشنج زدہ محسوس ہونے لگا ۔
موسم سردیوں کی جانب رواں دواں تھا۔ شامیں دن کو تیزی سے نگل رہی تھیں۔ پنتالیس سال کی عمر تک مجھے غیر محرم خواتین کو دیکھنے کی کبھی آرزو نہیں ہوئی تھی۔ لیکن عائلہ کے ایک سو اسی ڈگری یوٹرن کی وجہ سے مجھے سر راہ گزرتی خواتین میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ مجھے لگتا تھا کہ میری جسمانی ضرورت کو کوئی اور پورا کرے۔ لیکن پھر مجھے اپنی سوچ پر ندامت بھی محسوس ہوتی۔
ماسٹر اشرف عرف شرفو کے علاوہ مجھے کوئی اور ایسا شخص دستیاب نہیں تھا جس کو میں اپنا مسئلہ بتا سکتا۔ شرفو کو بتانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے میری بیوی کو دیکھا ہوا نہ تھا۔ اس لیے مجھے اس سے بات کرنے میں کوئی تردد نہ تھا۔ خاندان کے کسی فرد سے بات کرتے ہوئے مجھے یہ گمان تھا کہ شاید اس سے عائلہ اور میری ازدواجی زندگی دوسروں پر افشاء ہو جائے گی۔ اور جب کبھی میری بیگم ان کے سامنے آئے گی تو مجھے شرمندگی محسوس ہو گی۔
شرفو نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی جی اگر آپ کی بیگم اسی ڈگر پر چلتی رہیں تو آپ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاؤ گے۔ یہ تعلق اور اس کی رنگینی انسان کو جوان رکھتی ہے۔ اس نے تجویز دی کہ اگر آپ کو مالی کشائش میسر ہے تو دوسرا بیاہ کر لو ۔ ویسے بھی بھابھی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارا مذہب مرد کو ایک سے زائد شادی کی اجازت دیتا ہے۔
بظاہر اس کی بات معقول تھی لیکن پھر بھی میرے لیے قابل عمل نہ تھی۔ کیونکہ بہرحال میرا فوکس اپنا خاندان ہی تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں تقسیم ہو کر اپنے بچوں کو دستیاب نہ رہوں ۔ اس پر شرفو نے گہری آہ بھری اور پھر کہنے لگا کہ بھائی جی پھر باہر کی عورت سے خود کو رجا لو۔ یہ کہ کر اس نے جلدی سے شڑپ شڑپ کی غیر معمولی آواز نکال کر چائے پینا شروع کر دی۔ لیکن اس مرتبہ اس نے آنکھیں دائیں بائیں مٹکا کر دیکھنے کے بجائے میرے چہرے پر مرکوز کر لیں۔
زندگی اسی ڈگر پر رواں دواں ہو گئی۔ عائلہ کا ہر دن مذہب کی جانب بڑھ رہا تھا۔ مذہبی چینل پر ہونے والی گفتگو پر عمل کرنا اس نے فرض کر لیا تھا۔ اس کی دوستیاں بھی ایسی خواتین سے ہونے لگی۔ اب وہ دروس میں شرکت کرنے لگی ۔ اس کا ایک فائدہ تو مجھے یہ تھا کہ میری حکم عدولی اسے گناہ کبیرہ محسوس ہوتی۔ لیکن جب یہی حق میں ازدواجی تعلق میں جتاتا تو وہ کہتی کے شوہر کا ہر حکم سر آنکھوں پر سوائے اس کے جو مذہبی اقدار کے خلاف ہو۔
دسمبر اپنے جوبن پر تھا۔ سائبیریا سے آنے والی ہواؤں نے درجہ حرارت کو گرا دیا تھا۔ یہ میرا پسندیدہ موسم تھا۔ میں گزرے سالوں کے عائلہ کے ساتھ گزارے پر شباب لمحات کو یاد کر کے جسم میں حرارت محسوس کر رہا تھا۔ میرا ہیجان پل پل بڑھ رہا تھا۔ عائلہ کے پگھلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اسی کیفیت میں ایک دن میں بنا بتائے گاڑی لے کر باہر روڈ پر نکل گیا۔ سڑکیں سننسان تھی۔ میں نے گاڑی کا رخ چائے خانے کی جانب کر دیا۔
میرے فون کرنے پر شرفو دس منٹ میں اپنی موٹر سائیکل پر پہنچ گیا۔ اس نے سردی سے بچنے کے لیے پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔ میز پر بیٹھنے سے قبل اس نے ہاتھوں سے دستانے اتارے ۔ گردن پر حمائل مفلر کو دوبارہ سیٹ کیا۔ ہاتھوں کو مسلتے ہوئے اس نے ان میں حدت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس دن ہونے والی سرگوشی نے شرفو کو اس قدر محتاط کر دیا کہ اس کی چائے پینے کی شڑپ شڑپ بھی آہستگی پر منتج ہو رہی تھی۔۔۔
بھائی جی میں نے تو ایسے ہی آپ کو مشورہ دے دیا آپ تو سیریس ہی ہوگئے۔ شرفو نے میری طرف ایسے دیکھ کر کہا کہ مارے شرم کے میرے گال سرخ ہو گئے۔ مجھے شرمندگی محسوس ہونے لگی کہ اور میں یہ سوچنے لگا کہ میں نے ایسا کیوں کہا۔ لیکن شرفو نے جیسے میرے خیالات چہرے کے اتار چڑھاؤ سے پڑھ لیے ہوں ۔ اس نے کہا کہ بھائی جی خیر کوئی بات نہیں۔ شادی شدہ آدمی کی زندگی میں پھیکا پن عود آئے تو پھر بازار سے رنگ مستعار لینے میں کیا حرج یے۔ شرفو ہمیشہ اردو کے اچھے الفاظ بول کر مجھے حیران کر دیتا تھا۔
اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کے لیے کچھ انتظام کرتا ہوں لیکن آج تو ممکن نہیں۔ ایک پرانی شناسا خاتون دکان پر آتی ہے ۔ اس کا یہی کام ہے۔ کئی مرتبہ مجھے دعوت دے چکی یے۔ اس کے پاس ہر عمر اور رنگ کا مال ہوتا ہے۔ لیکن میں ٹھہرا غریب آدمی تو ایسی عیاشی کہا کر سکتا ہوں ۔ حالانکہ وہ مجھے کئی مرتبہ کہ چکی ہے کہ پیسے کپڑوں کی سلائی سے پورے کروا دینا۔ لیکن بھائی جی ایک ٹیلر ماسٹر کی کمائی ہوتی ہی کتنی ہے۔
میرے اندر جوار بھاٹا اترا ہوا تھا۔ میں نے شرفو کو کہا کہ دیکھ بھائی جگہ محفوظ ہو ایسا نہ ہو کہ اس عمر میں میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہوں۔ شرفو نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے آنکھوں کے اشارے سے گویا مجھے پیغام دیا کہ کوئی فکر کی بات نہیں۔
اگلے دن شام کو شرفو کا فون آیا اور اس نے اپنی دکان کی لوکیشن مجھے واٹس ایپ کر دی ۔ میرے جسم میں جیسے انگارے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے عائلہ کو ضروری کام کا کہا اور گھر سے نکل گیا ۔ گاڑی کی اسپیڈ اور دل کی دھڑکن گویا دونوں کا مقابلہ تھا کہ کون آج زیادہ تیز ہے۔ مقررہ جگہ پر پہنچ کر گاڑی پارک کی۔ شرفو نے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھایا ۔ راستے میں لڑکی کا خرچہ اور جگہ کے پیسے بتاتے ہوئے اس نے چلتی موٹر سائیکل پر مجھ سے پیسے مٹھی میں وصول کیے ۔ اب مجھے بات سمجھ آ چکی تھی کہ ٹیلر ماسٹر اشرف عرف شرفو کا اصل کام یہی ہے۔ کپڑے سینے کی دکانداری تو معاشرے میں باعزت نظر آنے اور کمائی دکھانے کا بہانہ تھا۔
کمرہ بند ہونے کے بعد جو لڑکی میرے روبرو تھی وہ عائلہ سے کہیں کم تھی اور اوپر سے عامیانہ میک اپ اسے مزید کمتر دکھا رہا تھا۔ میرے جسم میں گویا بخار تپ رہا تھا۔ کم شکل ہونے کے باوجود اس نے میری کئی ماہ کی کمی کو دور کیا۔ جب میں اپنی گاڑی میں گھر واپس جا رہا تھا تو گناہ کا احساس اور عائلہ سے بے وفائی مجھے اندر سے کاٹ رہی تھی۔ میں نہیں جان پا رہا تھا کہ میرے اندر کی بے چینی معدوم ہو گئی یا پھر پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔
رات کو نہاتے ہوئے دیکھ کر عائلہ نے تعجب کا اظہار کیا۔ میں نے عشاء کی نماز پڑھی اور دل ہی دل میں خدا سے معافی بھی مانگی۔ اس دوران میں نے عائلہ سے کبھی محبت سے تو کبھی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پرانی روش سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے کہا لیکن وہ اپنی بات پر بضد تھی کہ وہ مذہبی حدود سے ایک قدم آگے نہیں بڑھے گی۔ میں نے اسے کئی دوسرے مذہبی حوالوں سے سمجھانے کی کوشش کی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔ وہ اپنی مذہبی سوچ کو حرف آخر سمجھتی تھی۔ کچھ دن گزرے تو میرے جسم میں پھر سے انگارے بھر گئے۔ شرفو بھی مجھے مختلف لڑکیوں کی تصویریں واٹس ایپ پر بھیجتا رہتا۔
یہ سلسلہ چلنے لگا۔ معاوضے میں اضافہ ہوا تو شرفو کی طرف سے لڑکیاں بھی خوبصورت پیش ہونے لگیں۔ اب میری جھجھک بھی دور ہو گئی تھی اور خوف بھی قدرے کم ہو گیا تھا۔ جو کمی گھر میں پوری نہ ہوتی وہ باہر جنس کی منڈی سے پوری ہونے لگی۔ میرا خیال تھا کہ عائلہ نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا ہے لیکن اس کے اندر کی عورت خاموشی سے میری شخصیت میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کر رہی تھی۔
ایک دن اس نے مجھ سے میرا موبائل مانگا تو میرا وجود لرز کر رہ گیا۔ میں نے باہر جانے کا بہانہ کیا اور جلدی سے اپنے مخصوص چائے خانے پہنچ گیا۔ وہاں میں نے جلدی سے اپنے موبائل سے لڑکیوں کی تصویریں صاف کی۔ اب وہ میرے سرد موسم میں رات کو نہانے پر سوال کرنے لگی۔ میرے لیے ہر مرتبہ ایک نیا بہانہ بنانا مشکل ہو رہا تھا۔ اب وہ میری بے رغبتی کو بھی محسوس کرنے لگی اور کہنے لگی کہ کیا بات ہے اب تو کئی کئی دن میرے پاس نہیں آتے۔ مجھے ایسا لگتا کہ میرے دل کا چور میرے چہرے پر عیاں ہو رہا تھا ۔
اس ساری صورتحال پر شرفو نے مجھے سمجھایا کہ آپ کے اندر بلا وجہ کا خوف سرایت کر گیا ہے۔ اس وجہ سے آپ کو لگتا ہے کہ بھابھی کو آپ کا دوسری لڑکیوں سے میل ملاپ کا معلوم ہو گیا ہے۔ اب تو میں موبائل پر تصویریں بھی نہیں بھیجتا تو ڈر کیسا۔ اس کی باتوں سے مجھے ڈھارس ملتی لیکن جیسے ہی میں گھر جاتا تو مجھے لگتا کہ عائلہ کے سامنے میرا ننگ عیاں ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
اب میں نے صبح کے علاوہ رات کو بھی نہانے کی عادت مستقل اپنا لی تھی تاکہ وہ اسے میرا روز کا معمول سمجھے ۔ میں نے اس کے سامنے خود کو پارسا ثابت کرنے کے لیے داڑھی کا سائز بڑھانا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ میں نے تسبیح جپنا بھی شروع کر دی۔ میرا مذہب کی جانب بڑھتے لگاؤ پر عائلہ نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ اب ہم دونوں میاں بیوی ہی مذہب کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ صبح جلدی اٹھتے ۔میری زندگی میں مذہب کے بڑھتے لگاؤ نے اسے میری طرف سے مطمئن کر دیا تھا۔ دوسری طرف شرفو میرے اندر ہونے والی تبدیلیوں پر ہنستا کہ چلو اچھا ہے اب جب کہیں لڑکی سے ملنے جاؤ تو کوئی تمھارا حلیہ دیکھ کر تم پر شک تو نہیں کرے گا۔
ایک دن میں رات کو اپنی آگ بجھا کر گھر میں داخل ہوا تو عائلہ موبائل پر کسی دوست سے بات کر رہی تھی۔ وہ اس بات پر بار بار خدا کا شکر ادا کر رہی تھی کہ میں مذہب کی جانب مائل ہو گیا ہوں۔ اور آخر میں اس نے یہ کہ کر بات ختم کر دی کہ اب ان کی نفسانی خواہش بھی ماند ہو گئی ہے۔ سچ پوچھیے تو میرا تو بس اب سارا وقت خدا کی یاد میں ہی گزرتا ہے تو مجھے یہ تعلق رکھنا بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔ اب تو وہ پندرہ پندرہ ، بیس بیس دن بھی تقاضا نہیں کرتے۔ آخرت کی فکر ہو جائے تو دنیا داری سے دل اکتا جاتا ہے۔
میں نے ہونہہ کیا اور دل ہی دل میں بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ میں نے اب تک خواب میں خود کو کفن میں لپٹے ہوئے نہیں دیکھا ۔ میں نے اپنا تولیہ اٹھایا اور نہانے کے لیے واش روم چلا گیا۔۔۔۔۔
✍️ عامر انور ۔۔۔۔۔۔۔۔




