
کلاس روم نمبر 12 کی کھڑکی کے باہر دھوپ سنہری ہو چکی تھی، مگر فراز کی آنکھوں میں روشنی نہیں تھی۔ وہاں ایک سایہ بسیرا کیے تھا — ایسا سایہ جو اندر کی چمک کو نگل لیتا ہے۔
آج عید تھی… وہی عید جس کے لیے بچپن میں نیا لباس سِلوانا، جوتے خریدنا، اور سیویاں بنانے کی خوشبو میں صبح جاگنا ایک رسم تھا — مگر اس بار نہ کوئی بےتابی تھی، نہ کوئی خوشی، نہ ہی انتظار۔
کیمپس کی مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہی کیمپس، جو کبھی فراز اور اس کے دوستوں کی ہنسی سے گونجتا تھا، آج صرف خاموش دیواروں کا گواہ تھا۔
فراز نے سفید کُرتا پہنا، پسندیدہ خوشبو لگائی، جوتے پالش کیے — مگر دل بالکل خالی تھا، جیسے سب کچھ محض ایک فرض ادا ہو۔
دوست؟ وہ سب کب، کہاں اور کیسے کھو گئے — خود اسے بھی یاد نہ رہا۔
عادل اب دبئی میں نوکری کر رہا تھا۔
ساحل شادی کے بعد کینیڈا میں آباد ہو گیا تھا۔
غالب یو کے میں پی ایچ ڈی میں مصروف تھا۔
اور حسنین… جس کے بغیر عید کا تصور بھی ممکن نہ تھا، اب صرف ایک بند نمبر کی صورت یادوں میں محفوظ تھا۔
فراز کی آنکھوں میں وہ نمی تیر رہی تھی جسے مرد آنسو نہیں کہتے، مگر جو پلٹ کر واپس بھی نہیں جاتی۔
وہ سب یاد آیا — عید کی نماز کے بعد گلے ملنا، چاٹ اور پانی بتاشے کھانا، تصویریں کھینچنا، شام کو درخت کے نیچے بیٹھ کر بیتے لمحوں پر ہنسنا — اور یہ سب اب صرف موبائل کی گیلری میں قید تھا۔
نماز سے واپسی بھی تنہا تھی، جیسے ہنستا بستا قافلہ اچانک کہیں گم ہو جائے۔
کیمپس کی ایک بینچ پر بیٹھ کر اس نے پرانی تصویریں کھولیں — ایک ہاتھ میں سیویاں تھیں، دوسری میں بے ساختہ قہقہے، تیسری میں حسنین نے کندھے سے لپٹا رکھا تھا… اب وہی کندھا خالی تھا، اور دل وزنی۔
"عید مبارک، فراز بھائی!”
ایک نیا طالب علم گزرتے ہوئے بولا۔
فراز نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، مگر اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا ہو۔ وہ مسکراہٹ صرف ہونٹوں پر تھی، دل پر نہیں۔
عید کا چاند آج مدھم سا لگا، جیسے اس نے بھی اپنی روشنی کھو دی ہو۔
لگا جیسے خوشی نے آسمان پر پردہ ڈال دیا ہو، جیسے دوستی کی روشنی دھند میں لپٹ گئی ہو۔
…شام ڈھلے وہ لائبریری کے سامنے جا بیٹھا — وہی جگہ جہاں کبھی دوستوں کے ساتھ گھنٹوں بیتتے تھے۔
اچانک ایک تنہا سا چہرہ نظر آیا — خاموش، مگر پہچانا سا۔
فراز نے پیچھے سے پکارا:
"ارے… تم بھی یہاں؟”
حسنین چونک کر مڑا، پلکوں میں حیرت، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ:
"ہاں… سب گھروں کو نکل گئے… کوئی دوست نہیں بچا۔”
پھر اچانک آنکھیں پھیل گئیں، "فراز… تم؟”
دونوں آگے بڑھے اور گلے مل گئے۔
حسنین ہنسا، "کمبخت! اتنے برس بعد بھی وہی خوشبو، وہی انداز!”
فراز نے ہنستے ہوئے کہا، "اور تم… ابھی بھی عید پر نئے جوتے پہننے والے بچّے جیسے لگتے ہو!”
دونوں ہنس پڑے، مگر ہنسی میں ہلکی سی نمی تھی۔
چائے کی ایک چھوٹی دکان سے دو کپ لائے اور بینچ پر بیٹھ گئے۔
حسنین نے پہلا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا،
"یاد ہے… وہ عید جب عادل کے جوتے پھٹ گئے تھے اور ہم نے اس کا مذاق اڑایا تھا؟”
فراز مسکرایا، "ہاں، اور وہ ہم سب کو چاٹ کھلانے پر مجبور ہو گیا تھا!”
چند لمحے خاموشی رہی۔
فراز نے دھیرے سے کہا،
"پتہ ہے، نئے رشتے کبھی پرانے زخموں پر مرہم رکھ دیتے ہیں… شاید یہی زندگی کا دستور ہے۔”
حسنین نے کپ میں دیکھتے ہوئے کہا،
"مرہم تو لگتا ہے… مگر پرانے زخم نشان چھوڑ ہی جاتے ہیں۔”
چائے کی بھاپ میں پرانی عیدوں کے منظر دھندلے مگر گرم محسوس ہونے لگے۔
بھوک کا احساس ہوا تو دونوں کینٹین کی طرف چل پڑے۔
وہی کینٹین… وہی کونہ… مگر خالی کرسیاں۔
فراز نے میز پر ہاتھ پھیرا، جیسے لمس سے یادوں کو زندہ کر رہا ہو۔
موبائل نکالا اور ایک تصویر کھولی — سب دوست قہقہے لگا رہے تھے۔
حسنین کو دکھاتے ہوئے کہا:
"رفتہ رفتہ تھم گیا مانوس آوازوں کا شور،
دل میں یادیں… ڈائری میں فون نمبر رہ گیا۔”
حسنین نے تصویر دیکھ کر آہ بھری،
"کاش… وقت بھی موبائل کی طرح بیک اپ لے لیتا۔”
دونوں کی آنکھیں نم تھیں، مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
"اب چلنے کا وقت ہے…”
فراز نے آہستہ سے کہا، اور گیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔
کیمپس کے در و دیوار کو حسرت بھری نگاہ سے آخری بار دیکھا — مسجد کی چھت، لائبریری کی سیڑھیاں، ہاسٹل کی کھڑکیاں، اور وہی کینٹین جہاں بچپن اور جوانی کی سرحد دھندلا گئی تھی۔
"خدا حافظ، حسنین… خدا حافظ دوستو!”
عید کا غم مکمل ختم نہیں ہوا تھا، مگر اس الوداع میں ایک نئے حوصلے کی جھلک تھی —
کہ شاید اگلی عید پر، کوئی اور دوست… کوئی اور لمحہ، اس اداسی کو بانٹنے کے لیے تیار ہو۔




