نانگا پربت: پاکستانی کوہ پیما ’سنو بلائنڈ‘ کی وجہ سے پھنس گئے

پاکستان کوہ پیما آصف بھٹی نانگا پربت سر کرنے کے لیے آج کیمپ فور پہ موجود تھے جہاں الپائن کلب کے سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق وہ سنو بلائنڈ کا شکار ہونے کے باعث پھنس چکے ہیں۔
’نظر نہ آنے کے باعث وہ نہ اوپر جا سکتے ہیں اور نہ نیچے آ سکتے ہیں۔‘
کرار حیدری کے مطابق ’علم نہیں کہ وہ سنو بلائنڈ کیسے ہو گئے وہ تجربہ کار کوہ پیما ہیں۔‘
’شاید انہوں نے عینک اتاری یا عینکیں گم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وہ سنو بلائنڈ ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عمومی طور پر سنو بلائنڈ والا جب بلندی سے نیچے آتا ہے تو کچھ عرصے میں بینائی لوٹ آتی ہے۔ لیکن ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا۔‘
پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے سوشل میڈیا پہ پیغام لکھا ہے کہ وہ آصف بھٹی کو ریسکیو کرنے کے مشن میں جانا چاہتے ہیں اگر اتھارٹیز کو ان کی مدد درکار ہے اور وہ انہیں بیس کیمپ یا ہائر کیمپ تک پہنچائیں تو وہ حاضر ہیں۔
I would like to enthusiastically volunteer for the Asif Bhatti rescue mission on Nanga Parbat. I kindly request the relevant department to consider transporting me to either the basecamp or even to higher camps for increased involvement.
— Shehroze Kashif (broadboy) (@Shehrozekashif2) July 3, 2023
انہوں نے نانگا پربت جانے کے لیے پی آئی اے سے سکردو کی ایمرجنسی فلائٹ کی درخواست بھی کی ہے۔
If I am granted an urgent booking, I shall set off for Skardu first and then proceed towards Nanga Parbat, Inshallah. I kindly request @Official_PIA to kindly prioritize my ticket and make the necessary arrangements.
— Shehroze Kashif (broadboy) (@Shehrozekashif2) July 3, 2023
کوہ پیما نائلہ کیانی نے ایک روز قبل نانگا پربت کو سر کیا ہے، انہوں نے اپنے انسٹاگرام پہ لکھا کہ پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر شمشالی اکلاماٹائزڈ کوہ پیماؤں کو نانگا پربت کے کیمپ ٹو، جس کی بلندی 6000 میٹر ہے، وہاں پر ڈراپ کریں گے۔ جہاں سے ریسیکو کرنے والے کوہ پیما کیمپ فور تک چڑھ کر جائیں گے۔‘
کرار حیدری نے بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر پہاڑوں پر اتنی بلندی پر پرواز نہیں کر سکتا۔ آصف بھٹی اس وقت کیمپ فور جس کی بلندی 7500 میٹر ہے، وہاں موجود ہیں جہاں سے شمشال قراقرم کوہ پیما ٹیم ان کو نیچے کیمپ ٹو تک لے کر آئیں گے جہاں سے ہیلی کاپٹر انہیں نیچے لے آئے گا۔‘
اسی مہم جوئی کے دوران ہسپانوی کوہ پیما پاول 7400 میٹر کی بلندی پر طبیعت بگڑنے کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔
الپائن کلب کے سیکرٹری جنرل کرار حیدری نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ جبکہ مقامی انتظامیہ کے مطابق ہسپانوی کوہ پیما کو بلندی پر دل کا دورہ پڑا جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نانگا پربت کو ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہر سیزن میں کوہ پیمائی کے دوران وہاں کئی کوہ پیما برف کے تودوں میں پھنستے ہیں جبکہ کئی جان سے جاتے ہیں۔
آصف بھٹی پیشے کے لحاظ سے اسلام آباد میں پروفیسر ہیں اور انہوں نے ائیر یونیورسٹی سے اپنی ڈگری حاصل کی۔
آصف بھٹی نے گزشتہ برس جولائی میں براڈ پیک پر 7950 میٹر تک چڑھائی کی لیکن خراب موسم کی وجہ سمٹ نہ کر سکے، انہوں نے قراقرم رینج کے پہاڑ سپانٹک کو بھی سر کر رکھا ہے جس کی بلندی 7027 میٹر ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے پانچ ہزار میٹر اور چھ ہزار میٹر کی بلندی کے کئی پہاڑ سر کر رکھے ہیں۔
سنو بلائنڈنیس کیا ہوتی ہے؟
بلندی پر سورج کی تیز شعاعیں جب سفید برف پر پڑتی ہیں تو وہ آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ان سے بینائی متاثر ہو جاتی ہے جس کے بعد وقتی طور پر نظر آنا بند ہو جاتا ہے۔ جیسے الٹراوائلٹ شعاؤں سے جلد کی اوپری تہہ جل جاتی ہے ویسے ہی اگر آنکھوں کو عینک لگا کر مخفوظ نہ کیا ہو تو ریٹینا کو نقصان پہنچتا ہے جس کی وجہ سے آنکھوں پر پردہ سا آ جاتا ہے اور نظر نہیں آتا۔
عمومی طور پر بلندی سے نیچے جانے کے 24 سے 48 گھنٹوں میں بینائی لوٹ آتی ہے۔



