تحقیقی کالم

رفیق سندیلوی کی نظم ”تری دیو مالا میں“ انسان اور اساطیر کا رشتہ / ساجد علی امیر

رفیق سندیلوی کی نظم ”تری دیو مالا میں“ انسان اور اساطیر کا رشتہ از ساجد علی امیر

"تری دیو مالا میں” رفیق سندیلوی کی اہم اساطیری نظم ہے۔ اس نظم کی معنوی لحاظ سے ان گنت پرتیں ہیں اور ہر پرت میں کئی طلسماتی جہان آباد ہیں۔ جنھیں دریافت کرنا اور منظرِ عام پر لانا ہفت خواں سر کرنے کے مماثل ہے۔ مذکورہ نظم ما فوق الفطرت ماحو ل کی حامل ہونے کے باجودغیر فطری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ شاعر نے داستانوی اسلوب اپنایا ہے اور اس کے تمام لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ملاحظہ کریں:

میں تری دیو مالا میں

تیری اساطیر میں

سوئیوں میں پروئے ہوئے

روئی کے ایک پتلے کے مانند

اندھے کنویں میں لٹکتا رہا

نور و ظلمت کے

معلول و علت کے

پھیلے ہوئے سلسلوں میں

ترے جاتکوں میں

جہاں میرے بکھرے ہوئے

تن کے سایے کو ترتیب

آنکھوں کے کاسے کو بینائی

سینے کے نم دار پتھر کو کائی ملی

ایک چٹکی سی دانائی ملی

بھکشا میں

جنموں کی اک اک کتھا میں

ابد تک کی لمبی جدائی ملی

اس سکوت وصدا کی گرہ سے

مجھے کب رہائی ملی

رات دن

قلۂ قا ف سے سر پٹکتا رہا!

میں تری دیو مالا میں

تیری اسا طیر میں

بے خو ر و خواب

بے تاب

اڑتی ہوئی گرد میں گم

پروں والے گھوڑے پر

تیغ طلسمیں لیے

اک پری کے تعاقب میں

امرت کی اک بوند کی جستجو میں

بھٹکتا رہا!!

یہ نظم رفیق سندیلوی کے فنی کمالات کی مظہر ہے۔ اس میں اُنھوں نے ہندی دیومالا، بدھ مت کی کہانیوں ، جادو اور مشرقی داستانوں کی علامتوں کو بڑی خوبی سے برتا ہے۔ فن کو موضوع پر ترجیح دی ہے اور موضوع کوعلامتوں کے پردے میں ایسے سمویا کہ بدن میں روح اور روح میں بدن یکجا نظر آتے ہیں ۔ نظم کا مرکزہ پیچ درپیچ ہے جو وسیع مطالعے اور گہری بصیرت کا متقاضی ہے۔ نظم کے مرکزے میں ایک نہایت بنیادی پہلو یہ بھی پوشیدہ ہے کہ ان تمام اساطیری حوالوں کے پس منظر میں ایک واحد متکلم مسلسل بول رہا ہے، ایسا متکلم جو اپنی شخصی حیثیت میں نہیں، تاریخِ انسانی کے اجتماعی المیے کا نمائندہ بن کر ابھرتا ہے۔ نظم کا بیانیہ تاریخی جبر کا تسلسل ہے جو محرومیت، عدمِ تحفظ، وجودیت ، خوف ، دہشت ، تنہائی، نارسائیت،تحلیلیت اور بے سمتی جیسے موضوعات کو اپنے بطن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ واحد متکلم انہی موضوعات کی آگ میں جلتا ہوا ایک ایسا کردار بنتا ہے جو ہر عہد میں نئے روپ اختیار کرتا ہے لیکن کسی بھی عہد میں اپنی اصل پہچان حاصل نہیں کر پاتا اور یہی اس کا بنیادی قضیہ بن جاتا ہے۔ مذکورہ نظم کے موضوع کی گیرائی اس کی گہرائی میں اترے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ شاعر نے اسے علامتی نظام کی زیریں سطحوں میں پنہاں کر دیا ہے۔ نظم معنوں کا گہرا کنواں ہے۔ دوران قرأت اگر قاری اس میں زینہ بہ زینہ اترنے میں کامیاب ہو جائے تو اس خزانے تک پہنچ سکتا ہے جس پر علامتوں کا ناگ کنڈلی مارے پھن پھیلائے بیٹھا ہے۔ اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ رفیق سندیلوی کی متذکرہ نظم علامتوں کا ادق اور پیچیدہ نظام رکھتی ہے لیکن نظم کی معنوی گرہ انھیں کی وساطت سے کھولی جا سکتی۔ نظم کی تفہیم میں درج ذیل علامات واستعارات اور الفاظ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں:

١۔ دیومالا ٢ ۔ اساطیر ٣۔ سوئیاں ٤۔ روئی کا پتلا ٥۔ اندھا کنواں ٦۔ نورو ظلمت ٧۔ معلول و علت ٨۔ جاتک ٩ تن کے سایے ١٠۔ بینائی ١١۔ کائی ١٢۔ بھکشا ١٣ جنموں کی کتھا ١٤۔ ابد ١٥ جدائی ١٦ سکوت وصدا ١٧۔ قلۂ قاف ١٨۔ بے خوروخواب ١٩۔ اڑتی ہوئی گرد میں گم٢٠۔ پروں والا گھوڑا ٢١۔ تیغ طلسمیں ٢٢۔ پری۔٢٣ امرت۔

دیومالا اور اساطیر کو ہم معنی خیال کیا جاتا ہے لیکن ان کے مفاہیم اور مترادفات میں ایک باریک سا فرق ہے جسے نظم کی قرأت کے دوران میں ملحوظ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ دیومالا کا تعلق سنسکرت سے ہے۔ یہ ’دیو‘ اور ’مالا‘ کا مرکب ہے ۔ ’دیو‘ کے معانی مقدس، دیوتا، برہمنوں کا لقب اور قابل پرستش کے ہیں۔ ’مالا‘ کے معنی ہار اور ہندوؤں کی تسبیح کے ہیں۔ معنوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ’’دیو مالا‘‘ مقدس ہستی کا ہار یا تسبح ہے۔ ہار،حصار اور قیدو بند کی غمازی کرتا ہے ۔ اصطلاح میں دیومالا مقدس، عظیم اور روحانی ہستیوں کے افسانوی قِصّوں کو کہتے ہیں۔ ’اساطیر‘ عربی زبان کے لفظ اسطورہ کی جمع ہے۔اس کے معانی قِصّے ، کہانیاں، کہاوتیں وغیرہ کے ہیں۔ ’’اردو لغت‘‘ میں اساطیر کے معنی کتابیں، لکھائیاں تحریریں ، مواد (بالعموم قدیمی کہانیاں) دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی نو سورتوں میں ’’اساطیر الاولین‘‘ کی اصطلاح ملتی ہے۔علما اکرام نے اس کا ترجمہ پہلے لوگوں یا اقوام کے قصّے اور کہانیاں کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اساطیر کے مسلّم معنی افسانہ، کہانی یا قصّہ کے ہیں۔ لفظ اساطیر بذات خود مذہبی کہانیوں یا رسومات کے معنی نہیں دیتا ۔ اس کے معنی صرف کہانی یا قِصّہ کے ہیں۔ یہ کہانی کسی الوہی ہستی کی بھی ہو سکتی ہے اور عام انسانوں کی بھی۔ اساطیر کے جو معنی ’’اردو لغت‘‘ میں بیان ہوئے ہیں توجہ طلب ہیں۔ انسانی تقدیر بھی ایک کتاب یا کہانی ہے۔ مذکورہ نظم میں رفیق سندیلوی نے اساطیر کو کتابِ تقدیر یا داستان کے طور پر اور دیومالا کو عظیم قوت کے حصار کے طور پر برتا ہے۔ عصریت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دیومالا طاقتور طبقے کی عکاس ہے اور اساطیر وہ منشور ہے جس کے ذریعے کمزور طبقے کا استحصال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں واحد متکلم اپنی ذات کو دیومالا کے حصار اور اساطیر کی جبریت کے بیچ پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ گویا وہ اپنے وجود کو دو طاقتور بیانیوں کے درمیان ایک معلق تقدیر کی طرح دیکھتا ہے۔ نظم کی درج ذیل سطریں عصری انسان کے مسائل پر دال ہیں:

سوئیوں میں پروئے ہوئے

روئی کے ایک پتلے کی مانند

اندھے کنویں میں لٹکتا رہا۔

’سوئیوں میں پرویا ہوا روئی کا پتلا‘ سحربالمثل کی علامت ہے۔ سحر کے اس قانون کے مطابق مثل سے مثل پیدا ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ نتائج اسباب کے تابع ہوتے ہیں۔ سحر کے مذکورہ قانون کی اساس تلازمہ خیال پرقائم ہوتی ہے۔ پہلے ذہن میں کسی کو نقصان پہنچانے کا تصور کیا جاتا ہے پھر اس پر یقین واثق کیا جاتا ہے کہ ایسا لازمی ہو کر رہے گا۔ جیمز جارج فریزر کے مطابق:

’’مثل سے مثل پیدا ہونے والے اصول کے بہ موجب جادو کا جو طریقہ متعدد ادوار واقوام میں سب سے زیادہ آزمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی دشمن کو ضرر پہنچانے یا تباہ کرنے کے لیے اس کی شبیہ کو ضرر پہنچایا یا تباہ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کی بنا، یہ عقیدہ ہے کہ شبیہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہی اس شخص کو بھی پہنچتی ہے اور یہ کہ شبیہ برباد کر دی جائے تو موخرالذکر کی موت لازمی ہے‘‘

اس پوری توضیح کے پس منظر میں متکلم کا قضیہ اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے علامتی ’’روئی کے پتلے‘‘ کے طور پر دیکھتا ہے جس پر تاریخ، طاقت اور جبر کی ’’سوئیاں‘‘ پیوست کر دی گئی ہوں۔ گویا اُس کی تکلیف، اُس کے وجود کی بے سمتی، اور اُس کی شناخت کا ٹوٹ پھوٹ جانا محض علامتی نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو اسے نظم میں ایک بے بس لیکن بیدار اور باشعور کردار بناتا ہے جس کے لیے معنی کی تلاش مقدم بن جاتی ہے۔

اکیسویں صدی ، برق رفتاری اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ اس صدی میں ہونے والے نت نئے واقعات اور جنگ وجدل نے انسان کو مبہوت کر دیا ہے۔ روحانیت کی جگہ مادیت نے لے لی ہے،جس سے انسان طرح طرح کے مسائل میں گِھرکر رہ گیا ہے۔استعماری قوتوں نے کمزور قوموں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ استعمار نے معاشی استحصال نہیں کیا بلکہ تہذیبی ثقافتی، اخلاقی ، شعوری اور اقداری کیا ہے۔فرد سے اس کی پہچان اور اصل چھین لینے کے ساتھ ساتھ بصیرت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔’’اندھے کنویں میں لٹکتا رہا ‘‘ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ رفیق سندیلوی کا کمال یہ ہے کہ اُنھوں نے فرد پر ہونے والے جبر کو کسی مخصوص عہد تک محدود نہیں کیا بلکہ اسے تاریخی تسلسل میں دکھایا ہے۔ نورو ظلمت اور معلول وعلت کے سلسلے صدیوں پر محیط ہیں ۔ان سلسلوں میں انسان پرچھائیوں کی صورت میں بکھرا پڑا ہے۔ وقت کے بدلتے تقاضوں نے ہر بار اسے نئی پہچان دی ہے۔ استعمار کی ابتدا سے یہ کوشش رہی ہے کہ کمزور قومیں وہی سوچیں جو استعمار چاہتا ہے۔اس کا اظہار نظم میں بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے۔ رفیق سندیلوی نے موضوع کی مناسبت سے علامات کا انتخاب کیا ہے۔ تاریخی جبر کو بیان کرنے کے لیے مہاتما گوتم بدھ کی جاتک کہانیوں کا سہارا لیا ہے۔ ’قاف‘ زمرد کا بنا ہوا افسانوی پہاڑ ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا کے گردا گرد ہے۔کوئی پہاڑ ایسا نہیں جس کا سلسلہ قاف سے نہ ملتا ہو۔ اس پہاڑ کا ذکر داستانوں میں کثرت سے ملتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آب حیات کا چشمہ بھی اسی پہاڑ میں ہے۔ زیرِ مطالعہ نظم میں قلۂ قاف ایک ایسی رکاوٹ یا حد کے طور پر استعمال ہوا ہے جو انسان کو اس کی اصل سے جدا کرتی ہے۔ گوہرِ مقصود کا حصول اسے سر کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔’بے خوروخواب‘ کی ترکیب فرد کی باطنی واردات اور بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔ ’اڑتی ہوئی گرد میں گم‘ سے فرد کا ذہنی انتشار عیاں ہوتا ہے۔’پروں والا گھوڑا‘ تخیل کی تجسیمی صورت بھی ہو سکتا ہے اور عصری ٹیکنالوجی اور مشینری وغیرہ بھی۔ ’تیغ طلسمیں‘ ، افسانوی تلوار ہے جو داستان کے ہیرو کے پاس ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کوہ قاف پرقابض دیو کا سر قلم کرکے پری کو آزاد کراتا ہے لیکن عصری تناظر میں اس سے مراد ٹیکنالوجی کے کرشمات لیے جا سکتے ہیں۔ ’پری‘ حسن کی تجسیم ہے۔ واضح رہے کہ مختلف معاشروں میں حسن کے معیارات مختلف ہوتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر قوم اور معاشرے کی تہذیب و ثقافت الگ الگ ہوتی ہے۔ حسن کے معیارات کا انحصار، کلچر، تہذیب اور ثقافت پر ہوتا ہے اور ثقافت وتہذیب کے سوتے روحانیت سے پھوٹتے ہیں ۔ یوں پری تہذیب وثقافت ، حسن اور روحانیت کے اظہار کا مظہر بن جاتی ہے۔ سید احمد دہلوی پری کے متعلق لکھتے ہیں :

’’ ایک قسم کی جنّاتنیاں جو نہایت خوب صورت خیال کی جاتی ہیں اور فرشتوں کی طرح بال وپر رکھتی ہیں صاحب فرہنگ ناصری کا بیان ہے کہ پری روحانی اور لطیف جسم والی نسل مانی جاتی ہے‘‘

اس تعریف کی روشنی میں بھی واحد متکلم کا مسئلہ مزید واضح ہوتا ہے۔ ’’پری‘‘ اس کے لیے کوئی خارجی افسانوی مخلوق نہیں بلکہ اس کی اپنی روحانی لطافت، اپنی تہذیبی خوب صورتی اور اپنی شناخت کا وہ لطیف جوہر ہے جو اس کے ہاتھوں سے نکلتا رہا ہے اور جس کے تعاقب میں وہ پوری نظم کی میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔

نظم کے اساطیری پس منظر اور واحد متکلم کی داخلی کشمکش کے امتزاج سے ایک ایسا بیانیہ وجود میں آتا ہے جو نہ محض داستانوی ہے، نہ محض علامتی، اور نہ ہی صرف وجودی؛ بلکہ یہ تینوں جہتوں کا ایسا آمیزہ ہے جو جدید انسان کے شعوری و لاشعوری تجربے کا مکمل نمائندہ بن جاتا ہے۔ رفیق سندیلوی نے اساطیری عناصر کو محض تزئینی علامات کے طور پر نہیں برتا بلکہ انھیں انسانی تاریخ، اجتماعی لاشعور اور عہدِ حاضر کے نفسیاتی انہدام سے جوڑ کر ایک نئے معنیاتی سانچے میں ڈھالا ہے۔ اس طرح نظم نہ صرف ماضی کی علامتوں کو نئے معنی دیتی ہے بلکہ موجودہ انسان کی شکستگی، اس کی تلاشِ معنویت، اور اس کے عدمِ تحفظ کو بھی اسی اساطیری فریم ورک میں جگہ دیتی ہے۔ یوں اساطیر اور انسان کا باہمی رشتہ اس نظم میں محض حوالہ نہیں رہتا بلکہ ایک جیتی جاگتی معنوی حقیقت بن جاتا ہے۔

اس رخ سے آگے بڑھیں تو یہ نظم دراصل اپنے تہذیبی وثقافتی اور روحانی ورثے اور اقدار کو تلاشنے کا اظہار ہے۔’امرت‘ کے معانی آبِ حیات، آبِ بقا، تریاق، مقابلِ زہر، شہد، نہایت میٹھا پانی، شربت ، راجہ لوگوں کے پینے کا پانی وغیرہ ہیں۔ ’امرت کی اک بوند کی جستجو‘ اپنی ذات اور وجود کے بقا کی سعی ہے۔ یہاں واحد متکلم کی داخلی پیاس پوری طرح ابھر کر سامنے آتی ہے؛ وہ صرف داستانوی معنوں میں ’’امرت‘‘ نہیں تلاش کر رہا بلکہ اپنی مسخ شدہ تاریخ اور منتشر وجود میں وہ ایک ایسی بوند چاہتا ہے جو اسے شناخت، بقا اور معنویت لوٹا سکے۔ نظم کا مرکزی کردار کسی ایک عہد سے وابستہ نہیں ہے۔ وہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنی بقا اور پہچان کے لیے استعماری طاقت سے برسرِ پیکار ہے۔ جبر و ستم کے سلسلوں میں جکڑا ہوا ہے مگر مایوس دکھائی نہیں دیتا ۔ رفیق سندیلوی نے اس کردار کے ذریعے فرد کے عصری مسائل کو بڑی کامیابی سے دکھایا ہے۔ یہی رویّہ واحد متکلم کی داخلی شکست کے باوجود ایک ایسی تخلیقی قوت رکھتا ہے جو اپنی روحانی اور تہذیبی بنیادوں تک رسائی کو ممکن سمجھتی ہے۔ بسا اوقات مذکورہ کردار داستانوی ہیرو معلوم ہوتا ہے۔ نظم کی خوب صورتی داستانوی اُسلوب میں مضمر ہے ۔ نظم قاری کو داستانوی تخیل اور تجسس سے ہم کنار کرتی ہے۔ اساطیری علامات کے برتاؤ میں فطری تاثر پیدا کرنے کے لیے پوری نظم کا ماحول داستانوی رکھا گیا ہے۔ داستانوی انداز کی یہ خامی ہوتی ہے کہ قاری لکھت کے بنیادی نقطے سے دور ہو جاتا ہے لیکن رفیق سندیلوی نے ایسا نہیں ہونا دیا بلکہ اُنھوں نے قاری کی جڑت نظم کے مرکزی موضوع کے ساتھ مضبوط کی ہے۔ علاوہ ازیں ضدین کے استعمال نے نظم کی بُنت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ نظم کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ موضوع کو متعین نہیں کرتی بلکہ قاری پر چھوڑتی ہے کہ وہ اس کی ہئیت سے کیا دریافت کرتا ہے۔ بڑی تخلیق کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ ہمہ وقت متنوع موضوعات کی حامل ہوتی ہے۔ راقم السطور نے نظم کی جتنی بار قرأت کی ہر بار اک نیا موضوع منکشف ہوا ہے۔ اسے رفیق سندیلوی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x