اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب : وحشت دروں / تبصرہ وحید راز کاریگر،گرمٹکال انڈیا

چند دنوں پہلے ارم رحمٰن کے افسانوی مجموعے وحشت دروں کا تذکرہ سنا تو اشتیاق کے مارےاس کتاب کے پبلشر نایاب بکس نئ دہلی سے ایمزون کے ذریعے کتاب آرڈر کردی، چند ہی دنوں میں کتاب میرے ہاتھ میں تھی وحشت دروں کے مطالعے کے بعد جو تاثرات ذہن میں ابھرے، انہیں ایک مختصر سے تبصرے کی شکل میں تحریر کرنا مناسب سمجھا،
تبصرہ حاضر ہے،
کتاب کا سرورق نہایت عمدہ اور خوشنما ہے ،جب میری نظر نے عنوان
کو پڑھا تو یہ محسوس ہوا کہ واقعی افسانوں کی کتاب کا نام ہو تو ایسا ہو۔ ارم رحمٰن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں اور ساتھ ہی ساتھ درس وتدریس سے بھی وابستہ ہیں، ارم رحمٰن کا اصل تخلیقی میدان افسانہ نگاری ہے ۔
‘ وحشت دروں ‘ میں کل 26 افسانے ہیں جنہیں اکیسویں صدی کو روشن رکھنے کی کوشش سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ،
ارم رحمٰن کے افسانوں میں فکر کی روشنی ،احساسات کا بیان اور بھرپور مشاہداتی شعور جیسے عناصر وافر طور پر دکھائی دئیے ہیں۔
اس مجموعے کا پہلا افسانہ
” قل کا زردہ ” ہے جس میں چھ دیگ کا اہتمام کرتے ہوئے حقیقت زندگی اور مطلوب حیات کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے افسانہ نگار نے اپنے احساسات کو ایک نازک روپ میں ڈھال کر قارئین کا دل جیت لیا ہے ،یہ میرا اپنا احساس ہے کہ تاریخ میں جس طرح بیسویں صدی میں افسانے لکھنے والوں نے افسانوی ادب میں اپنا نام ثبت کیا،انشاءاللہ اکیسویں صدی میں افسانہ نگاری کے میدان میں ادب کی دنیا میں ارم رحمٰن کا نام اونچی آواز بن کر گونجے گا، مجموعےکا عنوان جس افسانے سے ماخوذ ہے وہ افسانہ
‘ وحشت دروں ‘ میں ایک ندرت خیال ہے جو محبت کے احساس کو جنم دیتا ہے مجھے یقین ہے کہ یہ افسانہ قارئین کے دامن دل کو چھو لے گا،وحشت دروں میں سوچنے سمجھنے کی خوبصورت اور خوشگوار بات یہ ہے کہ جس کو چاہت ہوجاتی ہے، وہ خود ہی قید ہوجاتاہے طائر نے غلامی کو رہائی پر ترجیح دی،صیاد مائل بہ کرم تھا اور طائر اڑان بھرنے سے قاصر، طائر کو صیاد سے عشق ہوگیا تھا
اس افسانے کو چند الفاظ یعنی اوصاف کلام نے مختصر ہونے کے باوجود منفرد اور وسیع بنا دیا, انداز تحریر دیکھیں،
گرم چمکیلی دوپہر ،طائر کی خشمگیں نظریں،طائر کی چشم تر طمانیت سے بھر گئی تھی، دو چمکتے گرم آنسو صیاد کے پیروں پر ایسے گرے جیسے الوداعی بوسہ دے رہے ہوں ۔
افسانہ ‘ روشنی ‘ بھی اپنی نوعیت کا تازہ فکر افسانہ ہے ۔
یہ افسانہ سٹیج کے درمیان پڑنے والی روشنیوں پر منحصر ہے ،افسانے میں مختلف روشنیوں سے متعلق مفہوم کی وضاحت کے طور پر ملاحظہ فرمائیں ۔
سیاہی مائل روشنی یعنی پتھر دل اور بے حس ہے ، نیلم جیسی روشنی دلوں میں احساس اور نیکی سے مراد ہے،گلابی روشنی سے مطلب ذمہ داری کا بھری بوجھ برداشت کرنے والے لوگ ، سبز روشنی ،یعنی یہ لوگ اپنی زندگی اور قسمت کے توازن پر خوش ہیں ، دودھیا روشنی جس پر پڑی یعنی یہ لوگ صراط مستقیم پر چلنے والے ہیں ۔جنہیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ نہیں آیا یہ وہ لوگ تھے جو لال روشنی میں نظر آئے،
افسانے کا آخری حصہ یوں ہے کہ اس شو میں کسی کو بولنے اور کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی،
اعلان ہوا جو خود کو جاننا چاہتا ہے ،اسٹیج پر آجائے ،چند منٹوں کے بعد جب دوبارہ روشنیاں جلائی گئیں تو سارا ہال خالی تھا
ارم رحمٰن نے اشارہ اسی بات پر رکھا کہ لوگ اپنی مرضی سے جینے لگے ہیں،جب خود آئینے میں دیکھتے ہیں تو اپنی حقیقت سے بھاگنے لگتے ہیں،لوگوں کو اپنی نہیں دوسروں جے اعمال کی فکرہوتی ہے
افسانہ” آوازیں” نوابوں اور رئیسوں کے گھر کی شادی کا منظرد پیش کرتا ہے ۔مجھے اس افسانے کے مطالعے نے متاثر کیا،مجھے عالم تخیل میں جیتی جاگتی تصویریں دکھائی دینے لگیں،افسانے میں پکوان کا ذکر،مہمانوں کا استقبال اور شادی میں رشتے داروں کا کردار ،سنہرے الفاظ کا استعمال ،زبان میں لطافت اور بیان میں چاشنی گویا افسانہ نگار کا فن اوج کمال پر دکھائی دیتا ہے ،ملاحظہ فرمائیں چند سطور افسانے سے ،
حویلی کی سجاوٹ ایسی جیسے روشنیوں کا شہر،زنان خانے کی تیاریاں جیسے کسی محل کی ملکہ اور شاہزادیوں کا راج ہو، جگنو کی طرح چمکتی ہوئی لڑکیاں ،متمدن اور مہذب خواتین،باوقار مرد، دلہن کے وزن سے زیادہ بھاری زیور اور کپڑے تھےجن کے بوجھ تلے دلہن خراماں خراماں چل رہی تھی، اس افسانے میں دو رشتوں کی منظر کشی کی گئ ہے۔ارم رحمٰن نے محنت ،محبت اور حوصلے کے ساتھ اس افسانے میں رنگ بھرے ہیں ، اگر اس افسانے میں رمز کی بات کہیں تو یہ بات ممکن لگتی ہے

رشتہ بنانا اتنا آسان ہے
جیسے مٹی پہ مٹی سے مٹی لکھنا
اور رشتہ نبھانا اتنا مشکل ہے
جیسے پانی پہ پانی سے پانی لکھنا

میں باقاعدہ کوئی تبصرہ نگار تو نہیں مگر اس بہترین افسانوں کے مجموعے کے مطالعے کے بعدان افسانوں پر اپنے تاثرات تحریر کرنے سے خود کو روک نہیں پایا، ارم رحمٰن کے افسانوں کا اسلوب ایسا اسلوب ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ تحریر آواز کو دائمی شکل دینے کا نام ہے ،ارم رحمٰن کی افسانہ نگاری کے فن کے پیش نظر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی یے کہ ارم رحمٰن کے یہاں زبان کا دائرہ وسیع ہے ، ذہانت غیر معمولی اور ادب کی گہری نظر کاگہوارہ ہے ۔
محترم حسنین عاقب ،رئیس المدارس اور پروفیسر رویندر جوگلیکر صاحب جو معروف ادیب اور نقاد ہیں ان دونوں اہل نقد ونظر نے وحشت دروں پر اپنے روشن تاثرات سے افسانوں کے کردار کو جو روشنی بخشی ہے اس سے متعلق اگر ایک جملے میں کہہ دوں تو یوں کہوں گاکہ حسنین عاقب اور جوگلیکر صاحب نے ارم رحمٰن کے افسانہ نگاری پر مدلل اور منصفانہ قلم اٹھایا ہے ۔
میری تحریر کا آخری جملہ یہ ہی ہے کہ ارم رحمٰن نے افسانوں کے ذریعے ثبوت پیش کیا ہے کہ جستجو ،یقین محکم ہو تو ادب کے مرحلے میں افسانوں کی تحریر سے بھی قدرت پیدا ہوجاتی ہے ، میں نے چند افسانوں پر بات کی ہے ۔
مجموعے کے تمام افسانے اپنی مثال آپ ہیں، جن پر پھر کبھی لکھنے کی کوشش کروں گا

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x