نظم

ڈائیورس (طلاق) / قرۃالعین شعیب

ڈائیورس (طلاق)

 

اس فضا میں جہاں کبھی 

 محبت پرواز کرتی تھی 

 اور دو دل 

 ایک ہی مرکز کے گرد گھومتے تھے

 وہاں 

جدائی کی تلخ لکیر نے 

فاصلے لکھ دیے  

اب دونوں اپنے اپنے تکیوں پر 

ایک دوسرے کے خواب دیکھتے ہیں 

اور خود کو کوستے ہیں 

سوچتے ہیں کہ 

دوری وقت کی ظالمانہ تقسیم ہے 

روزانہ وہ ایک ایسی کھائی میں گرتے ہیں 

جس کی گہرائی ختم نہیں ہوتی 

جنگوں کے نتیجہ میں

 ہونی والی تباہی کے بعد 

 اپنی اپنی لاشوں پر بیٹھ کر روتے ہیں 

 اجڑے ہوئے گھر کو دیکھتے ہیں 

 جہاں ہر طرف بچوں کے کھلونے بکھرے پڑے ہیں 

 اور بچوں کے اعضاء میں 

 دل دھڑکتا ہوا دیوار پر لٹکا ہوا ہے 

 جس میں دونوں نشانہ باندھتے ہیں 

 جس کا نشانہ لگ جاتا ہے 

 وہ اس دل کا مالک بن جاتا ہے

 اور ہارنے والا 

 اپنی روح پر بوجھ لیے 

 زمین پر بھٹکتا رہتا ہے 

 آسمانوں کی طرف پرواز کرنے کے لیے 

  بچوں کے بکھرے اعضا سے 

  کوئی صورت بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے 

  اور دوسری طرف 

  ایک اور بھٹکی روح 

  بچوں کے اعضا کو سمیٹے 

  انھیں مزید بکھرنے سے بچاتی رہتی ہے 

  اور خود تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے 

  زرہ بھر بھی نہیں رہ جاتی 

   سب ایک دوسرے سے جڑے ہونے کے باوجود 

   ٹوٹے ہوئے ہیں 

   کہیں اور ملنے کے لیے 

   بچھڑے ہوئے ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x