Foodsاُردو ادبافسانہ

اسیر عشق / الماس شیریں/ بہاولپور

لکھ لکھ مبارکاں بھاگ لگے رہن اللہ چھوٹے چودھری دی حیاتی لمبی کرے سانول میراثی زور زور سے بولتا ساتھ ڈھول پے بھی تھاپ لگاتے حویلی میں داخل ہوا سب نوکر باہر آگیے۔چودھری شجاعت اور بڑی چودھرائن باہر آ گۓ. سانول مبارک کا گانا گا رہا تھا۔ اسکی بیوی جھومر ڈال رہی تھی۔ چودھری اپنے ننھے شہزادے پر سے نوٹ وار رہا تھا۔ سانول کی تو عید ہو گئ چودھرائن نے سانول کی بیوی کو جوڑا دیا اور سال کی گندم دی۔سانول کی بیوی رقیہ پورے دنوں سے تھی۔ اتنا ناچنے اور پیدل چلنے سے اسے تکلیف شروع ہوگئ دائ آئ رقیہ نے بیٹی کو جنم دیا ۔ سانول نے گاؤں میں مٹھائ بانٹی ۔ حویلی میں بیٹے کے لیے چراغاں اور جھگی بیٹی کے آنے سے روشن ۔ حویلی میں بیٹے کا نام چودھری شہزاد رکھنے پر دیگیں چڑھی ۔جھگی میں رانی نام رکھنے پر کھیر پکائ گئ۔ خوشی دونوں طرف تھی۔
سانول بہت سریلا تھا۔ چودھری شجاعت اکثر اسے بلاتا اور کہتا یار سانول او سنا عمراں لنگیاں پباں بھار۔ سانول سر لگاتا اور چودھری شجاعت ماضی کی ندی میں بہہ جاتا۔ ایک سانولی سلونی تیکھے نقوش والی حسینہ اس کا انتظار کر رہی ہوتی۔ چودھری کا ہاتھ پکڑنا حسینہ کا روٹھنا یاد کر کے چودھری مسکرا رہا تھا۔ سریلی آواز نے چودھری کا گھیراو کیا۔
اندروں اندروں وگدا رہندا
پاڑیں درد حیاتی دا
چودھری نے ایک دم سے سانول کو روک دیا اور تیزی سے اندر چلا گیا ۔
سانول تین سالوں سے چودھری کو ایسے بے چین دیکھ رہا تھا۔
چودھری شجاعت اپنی زمینوں سےآرہا تھا۔اسے اچانک بریک لگانی پڑی سامنے ایک لڑکی بکریاں ہٹا رہی تھی۔بریک کی چرچراہٹ سے لڑکی سہم کر رونے لگی۔چودھری شجاعت غصے سے ہارن پے ہارن دے رہا لڑکی ڈر کر جلدی سے ہٹی گاڑی اس کے ساتھ سے گزری چودھری شجاعت نے ترچھی نگاہ سے لڑکی کو دیکھا اور ایک بجلی چمکی چودھری کا دل خاک ہو گیا۔ اتنا معصوم سادا حسن اسکی آنکھوں میں ٹھر گیا ۔ اک نگاہ نے اسے بڑی بڑی لال شربتی آنکھیں سوں سوں کرتی ستواں ناک سیب کی طرح گال ۔ وہ اس دنیا کی نہ لگتی تھی۔چودھری شجاعت ساری رات اس حسین چہرے کو یاد کر کے جاگتا رہا۔ دوسرے دن وہ پھر اسی راستے پر تھا۔مگروہ سہمی ہوئ ہرنی نا ملی۔وہ دیوانوں کی طرح روز وہاں جاتا آخر چاند نظر آگیا۔ چودھری شجاعت بے ساختہ اسکی طرف بڑھا وہ ڈر کر گھر کی طرف بھاگی اور اپنے باپ کے پیچھے چھپ گئ وہ اس کے پیچھے آگیا۔ چودھری کو دیکھ کر باپ ٹھٹھک گیا۔ اندر بیٹھنے کو کہا باپ بولا یہ میری بیٹی حسنہ ہے۔ اس سے کوئ گستاخی ہو ئ ہے۔ وہ بولے جا رہا تھا۔چودھری شجاعت کے کانوں میں حسنہ نام رس گھول رہا تھا۔ وہ اٹھا اور تیزی سے چلا گیا حسنہ کے گھر والے ہکا بکا کھڑے تھے۔ چودھری شجاعت سیدھا اپنے والد کے پاس گیا اور شادی کی خواہش ظاہر کی لڑکی کا نام سنتے ہی حویلی میں بھونچال آگیا۔ ایک میراثی کی بیٹی یہاں نہی آ سکتی۔ بیٹا بھی انکی طرح ضدی تھا۔ وہ حسنہ سے ملتا رہا جسکا علم بڑے چودھری کو تھا۔ اسکا خمیازہ صرف حسنہ اوراسکے گھر والوں کو بھگتنا پڑا۔ بڑے چودھری نے راتوں رات انکو غائب کروا دیا۔ دوسرے دن حسنہ کے گھر آہیں اور سسکیاں باقی تھی۔ محبت ہار گئ غرور اور تکبر جیت گیا۔بڑی چودھرائن نے اپنا دوپٹہ پاؤں پر رکھ کر بیٹے کو شادی کے لیے منا لیا۔ بڑے چودھری کی بھتیجی دلہن بن کر آئ ۔ اچھی سگھڑ لڑکی تھی۔مگر چودھری شجاعت حسنہ کے عشق میں گرفتاررہا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے چودھری شہزاد باپ کے قد کے برابر آگیا۔
ایک دفعہ پھر گاؤں میں عشق کی کہانی دہرائ گئ۔ شہزاد اور رانی کا عشق ۔
سانول کی بیماری کے بعد ہر جگہ رانی اپنی آواز کا جادو جگاتی۔ اس آواز کے درد نے شہزاد کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔
بڑے چودھری ایک بار پھر محبت کے دشمن بن گیے۔ مگر اس بار ہارا ہوا عاشق ساتھ تھا۔ وہ  رانی اور شہزاد کو گلے لگا کر حویلی لے آیا کوئ کچھ نہ کر سکا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x