عندلیب سے / مترجم :ظہور منہاس

عندلیب سے
اداس ہوں میں
اور اس اداسی میں میرے اعصاب شل ہوئے ہیں
سو لگ رہا ہے کہ زہر کے گھونٹ پی چکا ہوں
وہ کیفیت ہے کہ جیسے افیون کا نشہ ہے
ابھی ہی کچھ دیر پہلے جیسے میں لیتھ دریا کے ایسے پانی کو چکھ چکا ہوں جو پینے والے کی ساری یادوں کو چھینتا ہے
سنو اے بلبل ! یہ مجھ پہ طاری جو کیفیت ہے
یہ تجھ سے ہرگز حسد نہیں ہے
مجھے تو اپنی خوشی کی جھلکی تمہاری خوشیوں
میں دکھ رہی ہے
سنو! اے ہلکے پروں کی مالک (شجر کی دیوی)
بڑے تحمل سے اپنے جوبن پہ گا رہی ہو
تو یہ علاقہ سروں سے پر ہے
یہ ساحلوں کے ہرے درختوں
بہت سے عکسی مناظروں کی طرح ہوا ہے
سو لگ رہا ہے یہ فصل گل ہے
کہ مے کی خواہش ہے
ایسی مے ہو جو ایک مدت سے ٹھنڈے گہرے گھڑے کے اندر رکھی ہوئی ہو
کہ جس میں پھولوں کا اور پودوں کا ذائقہ ہو
نشاط_رقص و سرود رکھا ہوا ہو جس میں
جنوب پیرس کی گرمیوں سے بھری صراحی
جو ارغوانی(وہ ایسا جھرنا جو اک محرک ہے شاعری کا)
جو ارغوانی ہو اور سچ سے بھری ہوئی ہو
گلاس کی اوپری سطح بلبلوں سے پر ہو
جو میرے ہونٹ کو ارغوانی سے ہونٹ کر دے
شراب پی لوں تو اپنی دنیا کو چھوڑ دوں میں
شراب پی کر میں تیرے ہمراہ تیرے جنگل کی وسعتوں میں اڑان بھر لوں
تمہارا جنگل جو پرسکوں ہے
اداسیوں کا نشاں نہیں ہے
یہ میری دنیا دکھوں سے پر ہے
یہاں پہ کوئی بھی خوش نہیں ہے
بڑوں کو حتی جوان لوگوں کو ضعف و اندوہ نے آلیا ہے
یہاں پہ الہڑ کی تابناکی بھی چند برسوں کی مہرباں ہے
چمک جو آنکھوں میں دکھ رہی ہے یہ مختصر ہے
نئے دیوانے جو اپنے محبوب سے ملے ہیں
یہ پھول کتنے قلیل عرصے لیے کھلے ہیں
تمہارے ہمراہ گہرے جنگل میں میں اڑوں گا
بہت ہی آگے بہت ہی دوری پہ میں اڑوں گا
شراب کے دیوتا کی بگھی مرے لیے ہے ؟
نہیں ہے ہرگز
سو میں کویتا کے غیر مرئی پروں کے دم پر
تمہارے ہمراہ اڑ رہا ہوں
مرا خرد مجھ کو روکتا ہے
اندھیری شب کا عجب سماں ہے
کہ چاند دیوی تمام تارے لیے ہوئے اپنی سلطنت پر براجماں ہے
پہ روشنی کا نشاں نہیں ہے
سوائے ہلکی سی روشنی جو گھنے درختوں کے سبز پتوں سے چھن کے دھرتی پہ آرہی ہے
خبر نہیں ہے یہ میرے رستے میں کون سے گل اگے ہوئے ہیں
یہ کیسی خوشبو ہے
کیسے پھولوں سے آرہی ہے
مگر میں خوشبو سے پر اندھیرے میں سوچ سکتا ہوں خوشبووں کو
کہ فصل گل نے یہ شرف بخشا ہوا ہے مجھ کو
یہ بوٹیاں ہیں یہ جنگلی پھل ہیں
بچھی ہوئی ہے زمیں کے سینے پہ گھاس سرسبز
سفید کانٹے،گل بنفشہ یہ پھول نسریں
یہ شوخ گل ہیں جو اپنے پتوں سے ڈھک گئے ہیں
یہ فصل گل کے تمام گل ہیں جو اس کے بچوں سے لگ رہے ہیں
شفاف شبنم جو گل کے پتوں پہ پڑ رہی ہے تو سرخ مے کا شبہ ہوا ہے
بہار موسم کی دھندلی شاموں میں مدھو مکھیوں کی بھنبھنائٹ سی سن رہا ہوں
میں اس اندھیرے میں تیرے گیتوں کو سن رہا ہوں
عجیب سی اک کشش ہوئی ہے اجل سے مجھ کو
پہ میں نے پہلے بھی موت نظموں میں یاد کی ہے
کہ موت آئے تو میری سانسوں کو شانت کر دے
اور اب اندھیرے میں پرسکونی میں موت اچھی سی لگ رہی ہے
تمہاری آواز اس کو آسان کر رہی ہے
تمہاری آواز میرے مرنے کے بعد بھی تو یونہی رہے گی
مری سماعت سے دور ہوگی
سو ایک ماتم کا گیت بن کر بری لگے گی
پہ تم اجل کے لیے نہیں ہو،امر پرندے!
جدید نسلیں بھی تجھ پہ غالب نہ آسکیں گی
جو تیرے نغمے میں سن رہا ہوں یہ پچھلے وقتوں میں کتنے راجوں نے اور وزیروں نے سن رکھے ہیں
مجھے تو لگتا ہے تیرے نغموں نے رتھ کو رستہ دیا تھا شاید کہ جب غریب الوطن ہوئی تھی
پرائے کھیتوں میں رو رہی تھی
تمہارا نغمہ پرانے وقتوں مہیب قلعے کی کالی کھڑکی کے پاس سننے میں آیا ہوگا
عجیب قلعہ جو اک بھیانک ندی کے ساحل پہ بدنمائی کی اک علامت بنا ہوا تھا
یہ ناامیدی کا واقعہ تھا
یہ ناامیدی کا لفظ بانگ ِجرس ہے مجھ کو
میں اس کو سن کر حقیقی دنیا میں آگیا ہوں
تمہاری آواز مجھ کو دھوکا سا لگ رہی ہے
وداع اے دھوکے کے باب میں شہرہ پانے والے عجب پرندے !
وداع پرندے وداع پرندے
تمہاری آواز قدرے مدہم سی ہو رہی ہے
تمہاری آواز اب چراگاہ سے آرہی ہے
پرے ندی کے قریب ،ہلکی سے آرہی ہے
اور اب تو اس سے بھی دور گھاٹی سے آرہی ہے
تمہاری آواز گھاٹیوں سے بھی کچھ پرے ہوتی جا رہی ہے
اور اب تو آواز مک گئی ہے
تو کیا یہ سپنا تھا یا حقیقت
میں جاگتا تھا
یا سو رہا تھا
Original poem : Ode to a Nightingale by John Keats
Published in 1819




